دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

موبدمی کند پس تخصیص وتقیید مرابودن درکنار غالبًا جزتعمیم وتابید تصورے ہم بذہن نمی باشد ولہذامتقید باذن وغیرہ نمیکند پس معنی سخن آں نباشد کہ بخانہ گزاشتن تاخلاف مرضی من ست نکنی بلکہ مفہوم آن ست کہ بخانہ گزاشتن خلاف مرضی من ست زنہار نکنی و بریں تقدیر گوآیندہ مطابق مرضیش شود حکم مرتفع نشود کہ خلاف مرضی آن وقت بود نہ مرضی موہوم آیندہ وہرگاہ کند قطعًا خلاف مرضی وقت دیگر را خلاف مفہوم مباش پس شرط حنث متحقق ست۔

 

 

 

رابعًا اگر ازیں تدقیق گزریم غایت آنکہ ہردو معنی متحمل باشد ودر تقیید بدلالت حال شك نیست اما آنجا کہ در تقیید بدلالت حال شك نیست امر محتمل صالح تقیید نتواں شد کہ اطلاق لفظ یقینی ست والیقین لایزول بالشك ولہذا اگر زن شوئے را گفت تو برمن زنے گرفتہ شوئے گفت ھرزن کہ مراہست مطلقہ است ایں زن نیز طلاق شود اگرچہ بظاہر مقصود مرد ارضائے ایں زن مے نماید کہ اگر زنے جز تو گرفتہ ام او را طلاق ست فامامتحمل کہ مقصود سزائے زن بود کہ چرا در حلال بر من خوردہ گرفتی ودلالت محتملہ بسندہ نیست آرے اگرنیت غیرش کردہ ست دیانۃً صحیح باشد در ہدایہ ارشاد می رود واذا قالت المرأۃ لزوجھا تزوجت علیّ

مرضی کے خلاف یہ کام نہ ہو اور جب غصہ انتہائی ہوجائے تو رضا کے حال کو دل میں نہیں لاتا اور قسم میں حکم کو ابدی کردیتا ہے،پس اس موقعہ پر تخصیص وتقیید کومراد بنانا تو درکنار وہ غالب طور پر تعمیم اور ابدی حکم کے سوا کسی چیز کا تصور تك نہیں کرتا اس لئے وہ یہاں اجازت وغیرہ سے قسم کو مقید نہیں کرتا۔پس یہاں قسم کایہ مطلب نہیں ہوگا کہ میری مرضی کے خلاف تك اس کو گھر میں چھوڑنے کا عمل نہ کرنا بلکہ اس کامفہوم یہ ہوگا کہ اس کو گھر میں چھوڑنا میری مرضی کے خلاف ہے لہذا یہ عمل نہ کرنا،تو اس تقدیر پر بعد میں رضامندی سے بھی چھوڑے گی تو قسم کا حکم ختم نہ ہوگا کیونکہ قسم کے وقت مرضی نہ ہونے کا اعتبار ہے نہ کہ آئندہ موہوم مرضی کا اعتبار ہے بلکہ جب بھی یہ عمل ہوگا تو وہ اس قسم کی خلاف مرضی ہی میں ہوگا دوسرے وقت کی مرضی جو قسم کے مفہوم کے خلاف ہے میں نہ ہوگا،تو اس صورت میں قسم کا ٹوٹنا متحقق ہوجائے گا۔(ت)

رابعًا اگر تدقیق مذکورہ سے قطع نظر بھی کرلیں تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہاں اطلاق اورتقیید دونوں کے احتمال ہیں اور دلالتِ حال سے مقید ہونے کے احتمال کی بناپر قسم دلالتِ حال سے مقید نہ ہوگی کیونکہ قسم کے الفاظ میں اطلاق اور عموم ہے جو کہ یقینی ہے تو یہ یقین محض احتمال اور شك سے ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ شك یقین کو زائل نہیں کرسکتا،اسی لئے مثلًا اگر بیوی خاوند کو کہے کہ تو نے مجھ پرکوئی عورت دوسری بیوی بنارکھی ہے تو خاوند جواب میں یوں کہے کہ جو بھی عورت میری بیوی ہو اس کو طلاق ہے تو اس بیوی کو بھی طلاق ہوجائے گی۔تو یہاں بظاہر خاوند کی قسم کا مقصد

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن