30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کہ عدت بگزارد،باززن دراں خانہ پائے نہد جزاء فرود آید و محل ندیدہ رائگاں رود کہ زید بلاتحلیل اورابزنے تواں گرفت پس ازاں زن برقد رخواہد برضائے زید یا بے رضائے اوبآں خانہ رود طلاق نشود کہ یمین بیکبار منحل شد کما تقدم عن السراجیۃ والھندیۃ۔
ثانیًا اگر سوگند ہاکہ برامورنا مرضیہ حالف باشد متقید بعدم رضاشود ان خرجت فانت طالق بعینہٖ نہد ان خرجت الاباذنی او برضائی فانت طالق بود ایں خلاف اجماع وتصریحات جملہ کتب ست۔
ثالثًا حل آں ست کہ دلالت حال برآں ست کہ ایں کار خلاف مرضی حالف ست نہ برآں کہ منع تا خلاف مرضی ماندن ست در ہمچو مقام خشم تابحد توسط باشد انسان را تصور عواقب باز ندارد خودش داند کہ گنجائش رضاو زوال غضب باقی ست آنگاہ امثال تعلیق شدید رامقید باذن میکند کہ بے دستوری من چناں نکنی وچوں خشم بمنتہی رسید رضا در وقتے آئندہ راخیال ہم پیراموں خاطرش نمی گردد وحکم |
شرط ختم نہ ہوگی جب تك شرط پائے جانے پر جزالازم نہ ہوجائے جس کا حیلہ یہ ہے کہ خاوند بیوی کو ایك طلاق دے کر چھوڑدے اور عدت پوری ہوجائے تو اس کے بعد بیوی عمرو کے گھر داخل ہوتو اس وقت جزاء یعنی طلاق پڑے گی لیکن اس وقت بیوی طلاق کا محل نہ ہونے کی وجہ سے وہ طلاق لغو ہوجائے گی،اور اب زید یعنی خاوند کو اختیار ہوگا کہ وہ بغیر حلالہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرلے تو اس دوبارہ نکاح کے بعد بیوی چاہے تو عمرو کے گھر داخل ہوسکے گی زید کی رضا سے یا بغیر رضا کے داخل ہواب طلاق نہ ہوگی کیونکہ ایك دفعہ شرط پائے جانے پر قسم ختم ہوچکی ہے جیسا کہ سراجیہ اور ہندیہ کے حوالہ سے گزرچکاہے۔(ت) ثانیًا یہ کہ لازم آئے گا کہ ناپسندیدہ امور پر قسم کھائی جائے تو وہ قسمیں ناپسندیدگی سے مقید ہوجائیں کہ رضامندی پائی جائے تو قسم ختم ہوجائے مثلًا خاوند ناراضگی میں بیوی کوکہے کہ اگر تو باہر جائے تو تجھے طلاق ہے،یا اسی طرح یوں کہے اگر تو میری اجازت یا میری رضاکے بغیر باہر جائے تو تجھے طلاق ہے،تو لازم آئے گا کہ ان دونوں میں فرق نہ ہوحالانکہ یہ اجماع اور تمام کتب کی تصریحات کے خلاف ہے(ت) ثالثًا اس صورت میں دلالتِ حال یہ ہے کہ یہ کام مثلًا گھر میں چھوڑنا،قسم کھانے والے کی مرضی کے خلاف ہے اور یہ دلالت اس پر نہیں کہ اس کام سے منع یعنی گھر میں نہ چھوڑنا،اس کا عدم رضاتك ہے۔جہاں پر غصہ اور ناراضگی حدِ اعتدال میں ہو وہاں یہ غصہ انسان کو انجام سے بے خبر نہیں کرتا اور وہ جانتا ہے کہ غصہ اور ناراضگی ختم ہونے کی اور راضی ہوجانے کی گنجائش باقی ہے تو ایسے موقعہ پر شدید امور سے مشروط قسم کو اجازت سے مقید کیا جاتا ہے کہ میری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع