دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شبہہ سابعہ:بخانہ گزاشتن دوگونہ است موافقہ کہ برضائے پدر باشد ومخالفۃ کہ بے رضائے اووشك نیست کہ حال برارادہ قسم دوم دال ست یعنی خلاف مرضی من بخانہ نگزاری وایں جاواقع قسم اول ست پس شرط حنث متحقق نشد۔

 

 

 

اقول اولًا :زید برفتن بخانہ عمروراضی نباشد زن را بازدارد او سر ننہد گوید ان دخلت الدار فانت طالق ثلثا آیا ہیچ شنیدہ کہ حنث دریں یمین موقوف برعدم رضائے زید ماند تاآنکہ اگر زید گاہے خودش راضی شدہ زن را دستوری دہد باز بدخول طلاق نیفتند حاشا بلکہ تاحیات زن وشوایں تعلیق ہیچ گاہ زوال پذیر نیست تا بحصول شرط نزول جزاء نشود تا آنکہ اگر زید زن رایك طلاق دہد و بگزارد

معلوم ہوا کہ صلح قسم کو ختم نہیں کرسکتی اور خود علامہ سائحانی رحمہ اﷲ اس بات میں مطمئن نظرنہیں آتے اسی لئے انہوں نے صلح اور زوال قصدِ ضرر کے ساتھ،شکایت کرنے سے خطرہ،کی بات کی ہے،کیونکہ اگر قسم دلالتِ حال کی وجہ سے استحقاق سزا کی بقاء کے ساتھ مقید ہوتی اور صلح کے بعد وہ استحقاق انتقام ختم ہوجاتا ہوتو پھر قسم کا ساقط ہوجانا لازم ہوتا اگرچہ شکایت کرنے سے خطرہ نہ بھی ہوتا مگر علامہ مذکور نے شکایت سے خطرہ کو قسم کے سقوط کےلئے بنانا چاہا،حالانکہ ظاہر ہے کہ قسم میں کسی کے نفع و نقصان کی پروا نہیں ہوتی،مثلًا زید نے قسم کھائی کہ وہ عمرو کو مارے گا،توعمرو بے گناہ ثابت ہوجائے تو اس کی قسم ساقط نہ ہوگی بلکہ زید کو اپنی قسم کی وجہ سے لازم ہوگا کہ وہ قسم کو توڑدے اور کفارہ دے،وباﷲ التوفیق۔(ت)

ساتواں شبہہ:کہ بیٹے کو گھر میں چھوڑنا دو طرح ہوسکتا ہے،ایك موافقت کے طور پر کہ باپ کی مرضی سے ہو،اور دوسرا مخالفت کے طور پر کہ والد کی مرضی کے بغیر،جبکہ قسم کے ارادے کا موجب دوسرااحتمال ہے یعنی والد کی قسم کا مطلب یہ ہے کہ اس کو میری مرضی کے بغیر گھر میں نہ چھوڑنا،اور یہاں واقعہ کا تعلق پہلی صورت سے ہے کہ باپ کی رضامندی سے بیوی نے بیٹے کو گھر میں چھوڑا ہے لہذا قسم کے ٹوٹنے کی شرط نہ پائی گئی۔(ت)

اقول(جواب میں کہتا ہوں کہ)اولًا زید اگر اپنی بیوی کو عمرو کے گھر سے روکنے کی کوشش کرے اور بیوی باز نہ آئے تو زید قسم کھائے کہ اگر تو عمرو کے گھر میں داخل ہوئی تو تجھے تین طلاقیں،تو کیا آپ نے کبھی یہ سناہے کہ یہ قسم زید کی ناراضگی میں عمرو کے گھر داخل ہونے سے ٹوٹے گی،حتی کہ اگر زید خود راضی ہوجائے اور بیوی سے معاملہ بحال کرلے تو کیا اس کے بعد بیوی وہاں داخل ہوتو طلاق نہ ہوگی،ہرگز ایسا نہیں بلکہ یہ قسم خاوند اور بیوی کی زندگی بھر کے لئے ہے اور قسم میں مذکور طلاق کی

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن