30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ایك شخص نے کسی سے غصہ میں آکر کہا کہ تیرے مکان کا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔یا کہا کہ تیرے مٹکے کا پانی مجھ پر حرام ہے،تو شرعا یہ قسم ہے اگر اس کے گھر کھائے پئے گا اس کے مٹکے کا پانی پئے گا تو قسم کا کفارہ دینا آئے گا۔ |
٥٧٩ |
حرمین شریفین کے مصارف کے لئے یاوہاں کے علماء وفقراء کے لئے نذر مانی تو انسب یہی ہے کہ وہیں خرچ کرے،دوسری جگہ بھی اسی مصرف میں خرچ کرسکتاہے۔ |
٥٨٣ |
|
کوئی شخص کہے اگر میں تم سے بولوں یا تمھارے مکان جاؤں یا یہ چیزیں کھاؤں تو میرے حق میں حرام ہے،تو استحسانا یہ صورت حلف کی ہے۔ |
٥٧٩ |
نذر شرعی کی ادا واجب ہے۔ |
٥٨٣ |
|
یمین تحریم حلال ہی ہے۔ |
٥٧٩ |
تعیین مکان نذرمیں نامعتبر ہے۔ |
٥٨٣ |
|
باب النذر |
٥٨١ |
مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کو بھوت خانہ کالی گھر کی مثل کہنا گستاخی وتوہین وکلمہ کفر ہے۔ |
٥٨٣ |
|
"الله کو نذر کریں گے"کہنے سے نذر شرعی نہ ہوئی،یونہی ننھی کودیں گے صرف وعدہ ہے یہ ہبہ بھی نہ ہوگا۔ |
٥٨١ |
نذر پوری کرنے سے جو شخص روکے وہ مناع للخیرہے۔ |
٥٨٣ |
|
جو وعدہ کیا اس سے پھرناہر گز نہیں چاہئے،قرآن شریف میں اس پر سخت وعید فرمائی گئی ہے۔ |
٥٨١ |
اگر بد رگاہ خداوند کریم سوال کیا جائے کہ مجھ کو فرزند عطا ہو یا بیماری دفع ہو یا قرض ادا ہو تو اس قدر خیرات فی سبیل الله بارواح رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام یا حضرت پیر دستگیر یا ولی الله کردوں گا۔تو بلا شبہہ یہ نذر جائز ہے اور اس کا پورا کرنا واجب ہے۔ |
٥٨٣ |
|
ایك چیز کو نذر کرنے کو کہا اور ہبہ کرنے کو بھی،طریقہ یہ ہے کہ کسی فقیر کو وہ چیزیں دے دے پھر اس سے خرید کر جس کوہبہ کرنے کے لئے کہا ہے اس کو دے دے۔ |
٥٨١ |
چہل تن چالیس شہداء ہیں۔ |
٥٨٤ |
|
الله کے نام نذر کرنے سے قربانی ضروری نہیں۔اس کے لئے قربانی کا نام لینا ضروری ہے۔ |
٥٨١ |
نذر ماننے کے بعد ناذر فوت ہوجائے تو اس کے ترکہ سے نذر ادا کی جائے گی۔ |
٥٨٤ |
|
اپنے کاروبار میں غوث پاك رضی الله تعالٰی عنہ کے لئے متعین حصہ مثلا سولھواں حصہ برائے ایصال ثواب مقرر کیا تو اس رقم کو ہردینی کا م میں صرف کرسکتے ہیں۔ |
٥٨٢ |
چہل تنوں کی منت کی شرعی صورت اور فاضل لہو ولعب کا ردببلیغ۔ |
٥٨٤ |
|
مسجد ویران کی آبادی نہایت اہم کام ہے اور اس میں صرف کرنا مقدم ہے۔ |
٥٨٢ |
میلاد مبارك اور گیارھویں احباب کو کھانا کھلانے،مساجد میں شرینی لے جانے یا نمازیوں کو کھلانے کی نذر فقہی نہیں لہذا امیر غیریب سب کھاسکتے ہیں۔ |
٥٨٤ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع