30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاجل الیمین وھی برئیۃ عن ذٰلك فیکون ھذاالکلام توبۃ منہ عماقال فیھا ویکون بارا١[1]،در نوازل وتاتارخانیہ و ہندیہ ست ولو قال لہ قبل ذٰلك لایجوز لانہ لایکون بعد ذٰلك قول قبیح[2]نظر کنید ایں جایك پہلو گناہ بود ودگر سو طلاق وایں مبغوض ست وآں مغضوب وآشتی محبوب وشرعًا مطلوب اگر کارہاوکشودے بمارأیتموبہموں بودے واجب بودے کہ زن وشوئے بہم آمیزند واز سرجنگ وپر خاش برخیزند تااز مبغوض و مغضوب ہردو پر ہیز نداما نگفتند وایں راہ آسان نرفتند پس روشن وعیاں شد کہ آشتی رافع یمین نتواں شد وخود علامہ راایں جااطمینان نفس نبود کہ می گوید واختشے علیہ من الشکایۃ اگریمین بدلالت حال متقید ببقائے سزاواری سزاشدے بعد صلح آں سزاواری نماندے زوال یمین واجب بودے گواز شکایت ترس آزارے مباش مگر علامہ خواست کہ سقوط یمین راعذرے پدید آردوپیداست کہ سوگند پروائے سود وزیاں کسے ندارد اگر زید سوگند خورد کہ زداعمروراخواہد گشت بے گناہے عمرو شفیع سقوط حلف نگرددبلکہ برزید فرض بود کہ سوگند شکندوکفارہ ادا کند وباﷲ التوفیق۔ |
بھائی کو کمینے،چوروں،مکاروں اور قاتلوں میں پائی جانے والی بدیاں بتائیں تو وہ قسم سے بری ہوجائیگا اور ایسا کرنے پر وہ گنہگار ہوگا،اس کی قسم کثیر بدیوں کے متعلق ہے جن میں سے کم از کم تین بدیاں بھائی کو بتانا ضروری ہوگا،اور فقیہ ابولیث رحمہ اﷲ تعالٰی نے یہاں فرمایا کہ قسم کھانے والے شخص کو چاہئے کہ وہ بھائی کو بدیوں کی شکایت کرنے کے بعد کہے کہ میں نے آپ سے باتیں قسم کو پورا کرنے کےلئے کی ہیں ورنہ تمہاری بہن(بیوی)ان بدیوں سے بری ہے،تو شکایت کے بعدیہ حقیقت بیان کرنا اس کی طرف سے توبہ قرار پائیگی،اور قسم اور گناہ سے بری ہوجائے گا،نوازل،تاتارخانیہ اور ہندیہ میں مذکور ہے کہ اگرشکایت سے قبل بھائی کو حقیقت سے آگاہ کردیا تو قسم سے بری نہ ہوگا کیونکہ حقیقت سے آگاہ کرنے کے بعد بیوی سے منسوب بدیوں کی شکایت نہ بنے گی،آپ غور کریں کہ یہاں ایك پہلو گناہ کاہے اور دوسری تکلیف دہ چیز طلاق ہے،طلاق مبغوض چیز ہے اور گناہ مغضوب چیز ہے جبکہ صلح وآشتی محبوب اور شرعًا مطلوب چیز ہے،اگر معاملہ وہی ہوتا جو آپ سمجھ رہے ہیں تو یہاں پر خاوند اور بیوی کی آپس میں صلح کرنا اور لڑائی اور ناراضگی کو ختم کرنا واجب ہوتا جس کی بناء پر مبغوض اور مغضوب دونوں سے پرہیز ہوسکتا تھا،لیکن فقہاء نے ان سے بچنے کے لئے یہ آسان راستہ نہ بتایا،تو واضح طور پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع