30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
آوردہ فرمود اکثر المقدمات مزخرف بل ربما یدعی القطع بان من اساء الی غیرہ وانتھك حرماتہ ثم جاء معتذر الایجب فی حکم العقل قبول اعتذارہ بل الخیرۃ الی ذٰلك الغیران شاء صفح وان شاء جازاہ[1]۔علی قاری در شرح فقہ اکبر گوید قبول التوبۃ وھو اسقاط عقوبۃ الذنب عن التائب غیر واجب علی اﷲ تعالٰی بل کان ذٰلك منہ فضلا خلافا للمعتزلۃ٢[2]۔پس بمصالحت سقوط یمین را وجہے نیست۔
ثانیًا علماء مسئلہ شکایت رایك جزئیہ نوشتہ اندزن را گفت اگر ہربدی و شناعت کہ در دنیا است از تو پیش برادرت نگویم بر توطلاق اینجا تصریح فرمودہ اند کہ تا انواع بدی ہائے کہ |
تو قسم ختم نہ ہوگی،اگر مجرم کے رجوع کرلینے سے استحقاق انتقام ختم ہوجاتا ہوتو پھر مجرم کی توبہ اور رجوع پر معافی دینا اور در گزر کرنا کیا معنی رکھتا ہے بلکہ اس کی ضرورت ہی نہ رہے،بلکہ اب مجرم کو باز رکھنا بھی بے معنی ہوجائے کیونکہ جرم تو خود بخود ختم ہوگیا حالانکہ یہ بات قطعًا باطل ہے،اسی بناپر اہلسنت ماترید یہ کے ہاں بھی یہی بات ہے حالانکہ وہ مطیع شخص کو سزا دینا محال عقلی جانتے ہیں۔شرح مقاصد میں فرماتے ہیں کہ توبہ کو قبول کرنا ہمارے نزدیك واجب نہیں ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی پر کوئی وجوب عائد نہیں ہوسکتا، اس کے بعد معتزلہ حضرات جو کہ اﷲ تعالٰی پر توبہ کو قبول کرنا واجب جانتے ہیں کی دلیل ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی دلیل کے مقدمات سب شعبدہ ہیں بلکہ ان کا دعوٰی بھی ایسا ہی ہے،کیونکہ یہ قطعی بات ہے کہ جو شخص کسی غیر سے برائی کرے اور اس کے جرمات میں دخل اندازی کرے پھر وہ برائی کرنے والا معذرت خواہی کرے تواس حق والے غیر پر بحکم عقل واجب نہیں کہ وہ اس مجرم کی معذرت کو قبول کرے بلکہ اس غیر کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ معاف ودرگزرکردے یا اس کو سزادے،ملاعلی قاری نے شرح فقہ اکبر میں فرمایا کہ توبہ کو قبول کرنا بایں معنی کہ توبہ کرنے والے سے اس کے گناہ کی سزا کو ساقط کردینا،یہ اﷲ تعالٰی پر عقلًا واجب نہیں ہے بلکہ توبہ کو قبول کرنا محض اﷲ تعالٰی کا فضل ہے،اس میں معتزلہ مخالف ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ صلح سے قسم کے ساتھ ساقط ہونے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔(ت) ثانیًا کہتا ہوں کہ علماءِ کرام نے شکایت کے متعلق ایك مسئلہ ذکر فرمایا کہ،ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا"اگر دنیا کی ہربدی کو تیری طرف منسوب کرکے تیرے بھائی سے شکایت نہ کروں تو تجھ پر طلاق ہے" |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع