30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ہمیں بریں سخن متوجہ است،اگر نبودے کہ ایں سخن بخط عالمے برہامش کتابے نوشتہ یافتند حاجت بہ افراز او نبود و بقطعے نظر از جملہ کلام سابق جوابے تازہ گویم کہ تقیید باستحقاق انتقام را مساغی نگزارد۔
فاقول: وباﷲ التوفیق اوّلًا زید کہ سوگند مے خورد کہ شکایت عمرو پیش حاکم برو باز مصالحت میکنند آیا عمرو بواقع جرمے وستمے بحق زید کردہ بود یا زید حسبِ عادت بسیارے از مرد ماں مردم آزار خودش ظالم بود و خود شکایتش می خواست بر تقدیر دوم استحقاق انتقام از سر نبود و تقییدیمین بزمان انتقامش چہ معنی،و بر تقدیر اول انچہ بمصالحت زائل میشود قصد انتقام نہ استحقاق او کہ بصلح جرم وستم کردہ ناکردہ نشود پس یمین چرا منتہی گردد اگر برجوع مجرم استحقاق انتقام بر طرف شدے بایستے کہ عفو و تجاوز از تائب نہ عفو بودے نہ تجاوز بلکہ از ظلم اوراباز داشتن وھو باطل قطعاولہذا نزد اہلسنت قبول توبہ واجب اصلی نیست تا آنکہ نزد ائمہ ماترید یہ باآنکہ تعذیب مطیع را محال عقلی دانند در شرح مقاصد فرماید اماقبول التوبۃ فلایجب عندنا اذلاوجوب علی اﷲ تعالٰی [1]باز دلیل معتزلہ |
شبہہ کے جواب میں آپ معلوم کرچکے ہیں،اور پھر یہ کہ حضرت سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے قصہ میں وجہ قسم کو ترك کرنے کا قصد اور انتقام کے استحقاق کے خاتمہ،دونوں چیزوں کاکافی اور شافی جواب موجود ہے جیسا کہ آپ نے چوتھے شبہہ کے رد میں دیکھ لیا ہے،غرضیکہ تیسرے شبہہ کے جواب سے لے کر یہاں تك جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے وہ تمام اس بات سے ہی متعلق ہے،اگر کسی کتاب کے حاشیہ پر کسی عالم کی یہ بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو اس کو واضح کرنے کی ضرورت نہ تھی،تاہم سابقہ تمام گفتگو سے قطع نظر کرتے ہوئے ہم اس بات کا کہ اس قسم کا استحقاقِ انتقام سے تعلق نہیں ہے اور یہ اس سے مقید نہیں ہے،نئے انداز سے اثبات کرتے ہیں۔(ت) فاقول:(پس میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں)اولًا یہ کہ زید نے جو قسم کھائی کہ میں عمرو کو حاکم کے ہاں پیش کروں گا،اور پھر قسم کے بعد عمرو سے صلح کرلیتا ہے تو اب دیکھنا ہے کہ عمرو واقعی مجرم تھا اور اس نے زید کے حق میں ظلم کیا تھا یا زید بلاوجہ اپنی مردم آزاری کی عادت پوری کرنا چاہتا تھا تو دوسری صورت میں قسم کی وجہ استحقاق انتقام ہرگز نہ ہوئی کیونکہ عمرو کا کوئی جرم ہی نہیں ہے تو اس صورت میں قسم کو استحقاقِ انتقام سے مقید کرنے کا کوئی مطلب نہیں،اور پہلی تقدیر پر کہ عمرو نے واقعی زید کے حق میں ظلم کیا تھا،تو پھر صلح کرلینے پر عمرو سے انتقام لینے کا قصد ختم ہوا نہ کہ اس سے انتقام کا استحقاق ختم ہوا کیونکہ زید کی صلح سے عمرو کا جرم تو ختم نہ ہوا اور کردہ گناہ ناکردہ نہ بن سکا،تو جب جرم باقی ہے تو استحقاقِ انتقام ابھی باقی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع