30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذا یفیدان من حلف ان یشتکی فلانا ثم تصالحا وزال قصدالاضرار واختشی علیہ من الشکایۃ یسقط الیمین لانہ مقید فی المعنی بدوام حالۃ استحقاق الانتقام کما ظہرلی اھ فتأملہ[1]۔ اقول ایں علامہ متاخر نیزایں حکم درہیچ کتاب سلف تا خلف اصلا نیافت محض رائے اوست کہ فرمودکما ظہرلی چنانکہ مراظاہر شدہ ست و علامہ شامی نیز برو اعتماد نکرد کہ مے فرماید فتأملہ ایں را تأمل کن وایں خود سخنے تازہ نیست صدر کلامش بزوال قصد تمسك کرد وحالش در جواب شبہہ پنجم و چہارم شنیدی واستنباط از فروع در مسائل دلالت حال خواست و فرق انعدام قصد وانتفائے مقصود بما لامزید علیہ دیدی وآخر سخنش بہ حالت استحقاق انتقام حوالت نمودوایں ہماں صفت داعیہ است کہ حالش بجواب شبہہ سوم شنیدی باز قصہ سیدنا ایوب علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام زوال قصد واستحقاق انتقام ہر دو را جواب شافی ووافی ست چنانکہ در رد شبہہ چہارم دیدی بالجملہ از جواب شبہہ ثالثہ تا ایں جا ہرچہ گفتہ ایم |
قاضی کی عدالت میں پیش کروں گا الخ" تو انہوں نے اس پر فرمایا کہ شارح کے اس قول سے یہ فائدہ ہورہا ہے کہ جو شخص قسم کھائے کہ میں فلاں کی شکایت کروں گا، پھر قسم کے بعدصلح ہوجائے اور فلاں کو ضرر دینے کا ارادہ ختم ہوجائے اور شکایت کرنے سے گھبرائے تو قسم ساقط ہوجائیگی کیونکہ یہ قسم معنوی طور پر انتقام کے ارادہ کی بقاء سے مقید ہے، یہ وہ ہے جو مجھے معلوم ہوسکا ہے، اھ، تو غور کرو۔ اقول:(اس کے جواب میں میں کہتا ہوں)کہ متاخرین میں سے اس علامہ مذکور نے یہ مسئلہ کسی کتاب سلف یا خلف میں نہ پایا بلکہ انہوں نے یہ بات اپنی رائے سے کہی ہے اسی لئے انہوں نے فرمایا:"جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے"اور پھر علامہ شامی نے بھی اس پر اعتماد نہیں کیا اسی لئے انہوں نے اس قول کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ غور کرو،نیز انہوں نے اس کلام سے ابتداء نہیں کی بلکہ اس سے قبل ا نہوں نے قسم کی وجہ کو ترك کرنے کے قصد کو دلیل بنایا ہے جبکہ اس کا حال پانچویں اور چوتھے شبہہ کے جواب میں آپ نے سن لیا ہے۔اور دلالتِ حال والے مسائل کی تفریعات سے استنباط کرنا چاہا،حالانکہ آپ نے قصد نہ کرنے او مقصد کے خودفوت ہوجانے،کا فرق خوب سمجھ لیا ہے،آخر میں وہ انتقام کے استحقاق کے حوالہ سے بات کررہے ہیں اور یہ تمام امور قسم کے لئے داعی و اسباب بن رہے ہیں،جبکہ ان کا حال تیسرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع