30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انی واﷲ ان شاء اﷲ لا احلف علی یمین فاری غیرھا خیرامنھا الاکفرت عن یمینی واٰتیت الذی ھو خیر[1] بخدا اگر خدا خواہد ہر سوگند کہ خورم باز غیر اوبہتر از وبینم ہماں بہتر را پیش نہم وسوگندرا کفارہ دہم رواہ احمد وعبدالرزاق والبخاری ومسلم و ابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابی موسٰی الاشعری والطبرانی فی الکبیروالحاکم والبیہقی عن ابی الدرداء والحاکم عن ام المومنین الصدیقۃ والطبرانی عن عمران بن حصین رضی اﷲ تعالٰی عنہم وعبدالرزاق عن ام المومنین عن ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہما من قولہ وعبدالرزاق وابن ابی شیبۃ وابناء حمید وجریرو المنذروابوالشیخ والبیہقی عن امیرالمومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بمعناہ وفی الباب غیرھم رضی اﷲ تعالٰی عنہم ،وفرمودند صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واﷲ لان یلجّ احدکم بیمینہ فی اھلہ اٰثم لہ عنداﷲ من ان یعطی کفارتہ التی افترض اﷲ علیہ [2]یعنی اگر کسے دربارہ اہل خود برایذاواضرار ایشاں |
حضرت عمر فاروق (رضی اﷲ تعالٰی عنہم) سے روایت کیا ہے۔اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: بخدا!اگر اﷲ تعالٰی چاہے تو جو قسم بھی میں کھاؤں پھر اس کے بعد اس کے غیر کو بہتر پاؤں تو بہتر کو اختیار کروں گا اور قسم کا کفارہ دوں گا۔ اس کو احمد، عبدالرزاق، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے ابوموسیٰ اشعری سے اور طبرانی نے کبیر میں، حاکم اور بیہقی نے ابودرداء سے، اور حاکم نے ام المومنین عائشہ صدیقہ سے، اور طبرانی نے عمران بن حصین سے(رضی اﷲ تعالٰی عنہم) روایت کیا ہے۔ اور عبدالرزاق نے حضرت ام المومنین سے انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا قول، اور عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، ابن حمید، ابن جریرابن منذر، ابوشیخ ، اور بیہقی نے امیرالمومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بالمعنی روایت کیا ہے جبکہ اس باب میں دیگر صحابہ رضوان اﷲ تعالٰی عنہم سے بھی روایات ہیں،اور خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص اپنے اہل کے متعلق اس کو اذیت اور ضرر پہنچانے کیلئے قسم کھائے پس بخدا اس کو ضرر دینا اور قسم کو پورا کرناعند اﷲ زیادہ گناہ ہے اس سے کہ وہ اس قسم کے بدلے کفارہ دے جو اﷲ تعالٰی نے اس پر مقرر فرمایا ہے، اس کو بخاری اور مسلم (شیخین) نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع