30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ہماں مفاسد لازم آید کہ در جواب شبہہ چہارم یاد کردیم حلفہائے مبتنی برخشم و غضب بعد فروشدن خشم خود بخود برباد رودو ہیچ جزایا کفارہ لازم نشود کہ بعد زوال غضب آں ثمرات را خواہش نمی ماند بلکہ بسااوقات نادم می شود و دلیل قاطع بربطلان آں احادیث کثیرہ عدیدہ صحیحہ سدیدہ بسر حداستفاضہ کشیدہ ست کہ فرمودہ اندصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا حلفت علی یمین فرأیت غیرھا خیرا منھا فات الذی ھو خیر وکفر عن یمینك [1]چوں سوگندے خوری باز بینی کہ غیر او ازاں بہتر ست پس آں بہتر را بجا آرو سوگندت را کفارہ گزار،رواہ البخاری ومسلم عن سمرۃ بن جندب واحمد ومسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ والنسائی وابن ماجۃ عن عوف ابن مالك عن ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم وعبدالرزاق عن بن سیرین مرسلا وابوبکر بن شیبۃ و البیھقی عن امیر المؤمنین عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ من قولہ،وفرمودند
|
گھر سے دور رکھنے کی سزادینا ہے لیکن قسم والے نے اب اپنے مقصد کو چھوڑدیا تو اس سے قسم والا معاملہ بے سود اور بیکار نہ ہوگا کیونکہ یہاں مقصد فوت نہیں ہوا بلکہ خود اس مقصد کو ترك کررہا ہے،الحاصل، مقصود کا باقی نہ رہنا اور اس کو مقصود نہ بنانا دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں میں بڑا فرق ہے جبکہ دوسرا یعنی مقصد کو مقصود نہ بنانا اور اس سے روگردانی کرنا قسم کو قطعًا باطل اور کالعدم نہیں کرسکتا ، ورنہ اس سے وہ تمام مفاسد لازم آئیں گے جو شبہہ چہارم کے جواب میں ہم نے ذکر کئے ہیں کہ غصہ اور ناراضگی پر مبنی تمام قسمیں، غصہ ختم ہوجانے پر خودبخود ختم ہوجائینگی اور ان پر کوئی جزاء یا کفارہ لازم نہ آئیگا کیونکہ غصہ اور ناراضگی کے دوران قسم کے جو مقاصد تھے وہ غصہ ختم ہوجانے پر باقی نہ رہے بلکہ بسااوقات غصہ کی حالت میں قسموں پر ندامت ہوتی ہے تو لازم آئے گا کہ غصہ ہونے پر کوئی کفارہ یا جزامرتب نہ ہو حالانکہ اس کے بطلان پر کثیر تعداد میں صحیح احادیث وارد ہیں جوغصہ ختم ہونے کے بعد بھی ان قسموں پر حنث لازم آنے میں درجہ شہرت تك پہنچتی ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: جب تو قسم کھائے تو دیکھ کہ اس قسم کا غیر یعنی خلاف بہتر ہوتو بہتر کو بجالا اور قسم کا کفارہ دے۔ اس کو بخاری و مسلم نے سمرہ بن جندب اور احمد اور مسلم ترمذی نے ابوہریرہ اور نسائی اور ابن ماجہ نے عوف بن مالك کے والد سے روایت کیا ہے اور عبدالرزاق نے ابن سیرین سے مرسلًا اور ابوبکر بن شیبہ اور بیہقی نے موقوفًا امیر المومنین |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع