30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول اولًافرق ست میان انتفائے مقصود وانعدام قصد در فروع مستشہدہ افعال محلو ف علیہا خود از ثمرات مخصوصہ تہی شدہ است چوں والی معزول شد اطلاع او بر آمدن مفسد در شہرچہ سود دہد و مقصود از بردن منکر پیش قاضی وحلف از و خواستن آں بود کہ قاضی او را بر حلف مجبور کند وبرمقرحلف نتواں نہاد پس تحلیف صورت نہ بندد و طلب حلف مسموع نشود و چوں بر دعوی مدعی گواہان عادل شرعی باشند نیز از منکر حلف نگیر ند و ہمچوگواہان داشتن و باز کار برزبان صاحب انکار گزاشتن حق خود را در خطر افگند ست کہ خلاف مقصود ست پس بہر وجہ ثمرہ مطلوبہ مفقود ست و بعد ادائے دین باروئے مدیون چہ کار ماندہ است کہ پوشیدن و نمودن ثمرہ دہد و مقصود زن حصول انس بمصالحت شوہر ومنع وحشت بوحدت ست وایں بعد زوال زوجیت میسر نیست زن مرد اجنبی رانگوید کہ بامن باش وجدا مشو بخلاف صورت دائرہ کہ بخانہ نگزاشتن ہمچناں مثمردوری وہجران و سزائے ناشکری وکفران ست مگر حالف حالازیں قصد برگشتہ است پس ایں نیست کہ آنکار ثمرہ نیارد بلکہ خود اوخواہش آں ثمرہ ندارد،بالجملہ از نماندن مقصود تا قصد نمادن مقصود فرق عطیم ست ایں دوم زنہار مبطل یمیں نتواں شد ورنہ
|
اقول: (میں کہتا ہوں)اولًا جواب یہ ہے کہ مقصود کا متنفی ہونا، اور اس کا قصدنہ کرنا یہ دو مختلف چیزیں ہیں جبکہ شبہہ میں مذکور مسائل بیان جن کاموں کے متعلق قسم ہے وہ کام اپنے مخصوص مقاصد سے خالی ہوتے ہیں کہ جب والیئ شہر معزول ہوجائے تو شہر میں مفسد شخص کے داخل ہونے کی اطلاع اس کو دینے میں کیا فائدہ ہوگا۔ اور منکر کو تو قاضی پرپیش کرکے اس سے قسم لی جاسکتی ہے تاکہ قاضی اس کو قسم پر مجبورکرے لیکن جب قرض کا اقرار کرلیا تو اب اس سے قسم نہیں لی جاسکتی اور اس سے قسم کا مطالبہ نہیں ہوسکتا۔ اور جب مدعی کے دعوی پر شرعی عادل گواہ موجود ہوں تو منکر سے قسم نہیں لی جاتی اور اسی طرح گواہوں کی موجودگی میں اپنے حق کو منکر کی زبانی حلف کے سپرد کرنا اپنے حق کو خطرہ میں ڈالنا بھی مقصود کے خلاف ہے تو یہ تمام صورتیں قسم کے مقصد کے خلاف ہیں، اور قرض ادا کردینے کے بعد مقروض کے چہرہ کو دیکھنے سے کیا کام ہے اب روپوشی کرنا نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے، اور بیوی نکاح کی موجودگی میں تو علیحدہ رہنے میں تنہائی کی وحشت کو ختم کرنے اور اپنے خاوند سے صلح کرکے مانوس ہونے کی کوشش کرے گی جبکہ نکاح ختم ہوجانے پر اس کا یہ مقصد بھی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ اب اجنبی ہوجانے پر اس کو اپنے پاس رہنے کی بات نہ کرے گی اور نہ جدائی کوختم کرنے کی کوشش کرے گی، جبکہ زیر بحث مسئولہ معاملہ میں گھر میں نہ چھوڑنے کی قسم کا مقصد بیٹے کی ناشکری اور کفرانِ نعمت پر اس کو بائیکاٹ اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع