30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولا کلام فیہ انما الکلام فی حصول التخصیص ھنا ثم کلام التبیین فی صفۃ ملفوظۃ کلایکلم عبد فلان وتریدون ھٰھنا اثبات غیر الملفوظ فلایوضحہ مافی التبیین وغایۃ ما یقال ان المعنی لیوفین یوم کذاان لم یوف قبلہ فھذاالتقیید بدلالۃ الحال وھو المقصود الغیر الملفوظ فیکون الاولی مبرورۃ ساقطۃ واﷲ تعالٰی اعلم۔وچوں دریں مثال در دلالت حال مجال مقال و سیع آمد مثالے دگر جایش بنشانیم دائن حلف گرفت کہ روئے از من نپوشی و معنی ایں پیمان آن ست کہ ھرگاہ ترا طلبم وتوبرطلب من مطلع شوی ظاہرگردی ورنہ فرد روپوشی مدیون در غیرآں طلب دائن بے اطلاع بر طلب دائن موجب حنث نیست گواز ترس دائن باش چنانکہ بخوف او رخ پوشاں ببازازرفتن زیراکہ ایں روئے پوشیدن بخیال ست نہ ازو سوگند بریں بود نہ براں ایں یمین بدلالت حال مقید ست بزمان بقائے دین تا آنکہ اگر دو دائن بودند |
(تبیین الحقائق کے آخر کلام تک) جبکہ یہاں یہ بحث نہیں کہ مقصد سے مقید ہوگی یانہیں، بلکہ یہاں تو دلالتِ حال سے تخصیص میں بحث ہے اور پھر تبیین الحقائق کی بات کا تعلق لفظوں میں مذکور صفت سے ہے، مثلًا میں فلاں کے غلام سے بات نہ کروں گا جبکہ آپ تو یہاں غیر ملفوظ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، لہذا تبیین الحقائق کا کلام اس بحث کی وضاحت نہیں بن سکتا، انتہائی بات جو کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ قسم میں"فلاں دن حق پورا کرے گا" کا معنیٰ یہ ہوگا کہ اگراس دن سے قبل حق پورا نہ کرے تو اس دن ادا کرے گا، تو قبل ازیں پورا نہ کرنے سے قسم مقیّد ہوگی اور یہ مقصد لفظوں میں غیر مذکور ہے جوصرف دلالت حال سے قید کے طور پر معلوم ہورہا ہے، تو پہلی قسم پوری ہوکر ختم ہوگئی، واﷲ تعالٰی اعلم۔ چونکہ مذکورہ مثال میں دلالتِ حال کے متعلق بحث کی وسیع گنجائش پیدا ہوگئی، اس لئے ایك اور مثال یہاں پیش کرتا ہوں کہ،ایك قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھ سے منہ نہ چھپائے گا، تو اس عہد وپیمان کا معنیٰ یہ ہے کہ جب میں تجھے طلب کروں اور تومیری طلب پر مطلع ہوجائے تو فورًا سامنے آنا ہوگا، اس لئے اگر وہ اس کی طلب کے بغیر یا طلب پر اطلاع نہ پانے پر روپوشی کرے تو قسم کی خلاف ورزی نہ ہوگی اگرچہ یہ روپوشی اس قرض خواہ کے ڈر سے ہی ہو مثلًا قرض خواہ کے سامنے آجانے پر مقروض منہ پھیر کر رك جائے، کیونکہ یہ روپوشی دوسرے خیال |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع