30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لفظ الاذن کما تقدم والاولی کانت موقتۃ والممتنع الایفاء فی ذٰلك الوقت لحصولہ قبلہ فسقطت لعدم تصور البر ثم رأیتھم بہ عللوہ، وﷲ الحمد، اماالثانیۃ فمجازہ عن الایفاء ای لیعینہ لوفاء دینہ اذمن المعلوم قطعا ان لیس المراد خصوص اخذ العضو وھی مطلقۃ وقدبرفیھا اذا وفی وان فرضت لوقتہ بالتوقیت المذکور فقد سقطت ایضا وھذا معنی قول الوجیز لان المقصود ھو الایفاء فلیس ھنا مدخل اصلا للتخصیص بدلالۃ الحال واﷲ تعالٰی اعلم بحقیقۃ الحال ولیس فیما اتی بہ بعد عن التبیین الاان الیمین تتقید بمقصود الحالف ولھذا تتقید بالصفۃ الحاملۃ علی الیمین وان کانت فی الحاضر علی مابینا من قبل اھ[1] |
آخری یعنی"میری اجازت کے بغیر واپس نہ جائے گا" یہ قسم لفظ اجازت سے مقید ہے جیسا کہ گزرا ہے، اور ان میں سے پہلے قسم یعنی"تو میرا حق فلاں روز اداکرے گا" یہ وقت سے مقید ہے یعنی موقت ہے، جبکہ مقررہ اس دن میں حق کی ادائیگی نہیں ہو سکی کیونکہ ادائیگی مقررہ دن سے پہلے ہوچکی ہے اس لئے قسم ختم ہوجائے گی کیونکہ مقررہ دن میں پورا کرنا ممکن نہ رہا، پھر اس بیان کے بعد میں نے دیکھاتو فقہاء نے قسم کے خاتمہ کی یہی علت بیان فرمائی وﷲ الحمد، لیکن دوسری قسم یعنی"تومیرا ہاتھ پکڑلے"یہ حق پورا کرنے، سے مجاز ہے، یعنی تاکہ یہ بات حق کی ادائیگی میں مدد گار بنے ،کیونکہ خاص عضو یعنی ہاتھ پکڑنا مقصود نہیں ہے، لہذا یہ قسم مطلق قرار پائی، اور یہ حق کی ادائیگی ہوجانے پر پوری ہوچکی ہے ،اور اگر اس دوسری قسم کو مطلق کی بجائے وقت یعنی مقررہ دن سے مقید اور موقت قرار دیا جائے تو تب بھی یہ ساقط قرار پائیگی، جبکہ وجیز کے اس کہنے کا کہ یہاں مقصود صرف حق کو پوراکرنا ہے، اور یہاں حال کی دلالت سے تخصیص کا کوئی دخل نہیں ہے، کا یہی مطلب ہے جبکہ اﷲ تعالٰی ہی حقیقت حال کا بہتر عالم ہے، اور بعد میں تبیین الحقائق کے حوالہ سے جو ذکر کیا وہ صرف یہی ہے کہ یہ قسم حالف کے مقصد سے مقید ہوگی لہذا قسم کی وجہ بننے والی صفت سے یہ مقید قرار پائے گی اگرچہ وہ صفت حاضر چیز میں پائی جائے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع