30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نہ روی باز مدیوں ہمیں روز دینش داد ودستش نگرفت و بے دستوری اوبیروں رفت حانث نشود کہ ایں یمیں عرفا مقیدست بحال دیں در ردالمحتار ست فی البزازیۃ حلفہ لیوفین حقہ یوم کذاولیأخذن بیدہ ولا ینصرف بلا اذنہ فاوفاہ الیوم ولم یأخذ بیدہ وانصرف بلااذنہ لایحنث لان المقصودوھو الایفاء اھ، قلت تقدم ان الایمان مبینۃ علی الالفاظ لاعلی الاغراض وھذا المقصود غیر ملفوظ لکن قدمنا ان العرف یصلح مخصصا وھنا کذٰلك فان العرف یخصص ذٰلك بحال قیام الدین قبل الایفاء ویوضحہ ایضا مایأتی قریبا عن التبیین[1]اھ مافی الشامی۔اقول: والذی یظھر للعبد الضعیف ان ھنا ثلث ایمان فالاخیرۃ متقیدۃ بنفس
|
اور میری رضا کے بغیر باہر نہ جائے گا، پھر مقروض نے اسی دن قرض ادا کردیا اور اس کا ہاتھ پکڑے بغیر باہر چلاگیا تو اس کی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ یہ قسم عرف میں قرض ذمہ ہونے کی وجہ سے تھی، تو قرض ختم ہونے پر قسم ساقط ہوجائے گی۔ ردالمحتار میں ہے کہ بزازیہ میں ہے کہ قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھے فلاں دن میرا حق دے گا اور میرا ہاتھ پکڑے گا اورمیری مرضی کے بغیر باہر نہ جائیگا، تو مقروض نے اس کو قرض اسی روز دے دیا اور ہاتھ پکڑے اور اس کی مرضی کے بغیر باہر واپس چلاگیا تو قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ اس قسم کا مقصد قرض وصول کرنا تھا اھ۔قلت میں کہتا ہوں کہ یہ گزرچکا ہے کہ قسموں کی بنیاد الفاظ ہوتے ہیں۔ اغراض بنیاد نہیں ہوتے، اور مذکور قسم کا مقصد الفاظ میں مذکور نہیں ہے، لیکن جیسا کہ پہلے ہم نے ذکر کردیا ہے کہ عرف تخصیص پیدا کردیتا ہے تو یہ بھی ایسے ہی ہے کیونکہ یہاں بھی عرف نے اس قسم کو قرض کی موجودگی کے ساتھ مختص کردیا ہے کہ اس کی ادائیگی سے قبل تك ہوگی، اس کی وضاحت عنقریب تبیین الحقائق سے بیان کی جائے گی، علامہ شامی کا ردالمحتار میں بیان ختم ہوا۔ اقول(میں کہتاہوں کہ) مجھ ضعیف بندے پر جوظاہر ہورہا ہے وہ یہ کہ یہاں ردالمحتارکے بیان کردہ مسئلہ میں تین قسمیں ہیں جن میں سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع