30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تصور البر فیما بعد وامّا ثانیا فلانہ متصور اما فی الشھود فلما ذکرنا واما فی الاقرار فلان من اقر عند الطالب لایجب ان یقر عندالقاضی فلعلہ اذااجرالیہ انکر فیحلفہ فالتصور حاصل قطعا فلاسقوط الاللتقید العرفی اھ [1] ماکتبت علیہ ۔ثمّ رأیت الامام ابا بکر محمد بن ابی المفاخر بن عبدالرشید الکرمانی ذکرہ فی جواہر الفتاوٰی کتاب الایمان، الباب الثانی فتاوی الامام جمال الدین البزدوی، فرأیتہ افاد فوائد منھا،التعلیل بدلالۃ الحال ملحقالہ بمسألۃ تحلیف الوالی لیعلمنہ بکل داعر ومنھا ان التقید بالانکار فی صورۃ الاقرار ومنھا ان فی سقوط الیمین بظھور الشھود خلافا وان
|
کی خبر دینا مدعی کے اختیار میں نہیں ہے؟ضرور اس کے اختیار میں ہے کیونکہ جب تك وہ گواہوں کو حاضر نہ کرے وہ پیش نہ ہوں گے اور یوں ہی جب تك وہ قاضی کوگواہوں کی موجودگی کی خبر نہ دے قاضی کو معلوم نہ ہوسکے گا کہ اسکے پاس گواہ ہیں، تو بہرصورت گواہوں کی موجودگی کے باوجود مدعی علیہ سے قسم لینے کا امکان قاضی کے ہاں باقی ہے، اولًا تو اسلئے کہ مذکورہ قسم مطلق ہے تو تاحال قسم پورا ہونا متصوّر نہ ہوتو اس کے لئے کچھ مضر نہیں ہے، اور ثانیًا اس لئے کہ قسم کا پورا ہونا ابھی ممکن ہے گواہوں کی موجودگی کی صورت میں تو ہم نے وجہ ذکرکردی، اور مدعی علیہ کے اقرار کی صورت میں اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ مدعی علیہ، مدعی کے پاس تو اقرار کرتا ہوتو پھر ضروری نہیں کہ وہ قاضی کی مجلس میں بھی اقرارکرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مدعی علیہ کو جب قاضی کے ہاں پیش کیا جائے تو وہ انکار کردے تو اس صورت میں قاضی کا اس سے قسم لینا متصور ہے تو معلوم ہوا کہ بہر صورت ابھی قسم کا تصوّر باقی ہے لہذا یہاں قسم کا سقوط صرف عرفی قید کی وجہ سے ہوگا نہ کہ حلف کا امکان ختم ہوجانے سے قسم کا سقوط ہوگا اس پر میرا حاشیہ ختم ہوا۔اس کے بعد میں نے امام ابوبکر محمد بن المفاخربن عبدالرشید کرمانی کو جواہر الفتاوی کی کتاب الایمان کے دوسرے باب۔ امام جمال الدین بزدوی کے فتاوی میں ذکر کرتے ہوئے پایا جس میں ان کو بہت سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع