30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن البحر الیمین کالخلف عن البینۃ فاذاجاء الاصل انتہی حکم الخلف اھ[1] ولایرضی الطالب بحلف المنکر مادام یقدر علی الشھود مخافۃ ان یحلف فیذھب مالہ فیتقید بھما عرفا،اقول: ولیس ھذاالسقوط لعدم تصور البر بقاء فان قلت الیس فی الدر قال المدعی لی بینۃ حاضرۃ فی المصر وطلب یمین خصمہ لایحلف خلافا لھما ولو حاضرۃ فی مجلس الحکم لم یحلف اتفاقا ابن ملك اھ[2]، قلت الیس ان الاحضار والاخبار کلیھما بیدہ فان الشھود لا یحضرون مالم یحضروا ولایعلم القاضی ان لہ بینۃ فی المصر مالم یخبر فالامکان حاصل لاشك اما اولا فلان الیمین مطلقۃ فلایضرھا انتفاء
|
نہیں بلکہ یوں کہنا بہتر تھا کہ وہ قسم انکار اور گواہوں کے دستیاب نہ ہونے سے مقید قرار پائے گی، کیونکہ اقرارکرلینے پر اور گواہوں کی شہادت پر قسم کی ضرورت نہیں رہتی۔ درمختار میں بحر سے منقول ہے کہ قسم، گواہی کا خلیفہ بنتی ہے توجب اصل حاصل ہوجائے تو خلیفہ کی ضرورت نہیں رہتی اھ، اور نہ ہی حق والاگواہوں کی موجودگی میں قسم دلانے پر راضی ہوتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مقروض جھوٹی قسم اٹھادے تو اس کا قرض ضائع ہوجائے، لہذا عرفًا یہ قسم دونوں حالوں(انکار اور گواہ نہ ہونے) سے مقید قرار پائے گی۔ اقول:(میں کہتا ہوں کہ) گواہوں کی موجودگی میں قسم کایہ سقوط اس لئے نہیں کہ بالآخر قسم کا پورا ہونا متصور نہیں ہوسکتا کہ قسم کا پورا ہونا ناممکن ہوجانے پر ختم ہوجائے۔ اس پر اگر تو یہ اعتراض کرے کہ کیا درمختار میں یہ موجود نہیں کہ جب قاضی کے ہاں مدعی یہ کہے کہ میرے گواہ ہیں لیکن وہ شہر میں موجود ہیں اور مدعی اس صورت میں اپنے مخالف سے قسم کا مطالبہ کرے، تو امام اعظم رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیك قاضی مخالف کوقسم نہ دلائے گا۔ صاحبین کامسلك اس کے خلاف ہے، اور اگر مدعی کے گواہ قاضی کی مجلس میں حاضر ہوں تو بالاتفاق قسم نہ لی جائیگی، ابن ملك اھ(تو قسم دلانے کا احتمال ختم ہوجانے سے قسم ساقط ہوجائیگی) قلت(میں کہتا ہوں) کیا گواہوں کو حاضر کرنا اور قاضی کو گواہوں کی موجودگی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع