30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
(١) والیئِ زید را سوگند داد کہ ہر مفسدے کہ بشہر بود مرا آگاہانی متقید باشد بزمان قیام ولایتش حالانکہ اینجا لفظے مثل اذن وغیرہ مفید تقیید اصلًا نیست مگر حال دال ست کہ عرفش تدارك اوست و ایں نباشد مگر بولایت لاجرم بادمقید شد در ہدایہ ست اذااستحلف الوالی رجلا لیعلمنہ بکل داعر دخل البلد فھذا علی حال ولایتہ خاصۃ لان المقصود منہ دفع شرہ او شر غیرہ بزجرہ فلایفید فائدتہ بعد زوال سلطنتہ[1]،درفتح القدیراست ھذا التخصیص فی الزمان یثبت بدلالۃ الحال وھو العلم بان المقصود من ھذاالاستحلاف زجرہ بما یدفع شرہ او شر غیرہ بزجرہ وھذا لایتحقق الافی حال ولایتہ لانھا حال قدرتہ علی ذٰلک[2]۔(٢) ہر مدیون خود کہ از دین منکر بود و دائن گواہان نداشت سوگند خورد ترابدر قاضی کشم و حلف گیرم مدیون اعتراف کردیا دائن |
(١) والیئ شہر نے زید کو قسم دی کہ شہر میں جو بھی شرپسند ہو مجھے اس کی اطلاع دے گا، تو اطلاع دینے کی یہ قسم اس والی کی ولایت کی مدت کے ساتھ مقید ہوگی حالانکہ لفظوں میں اس قید پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ مثلًا اجازت وغیرہ موجود نہیں مگر عام حال کی یہاں دلالت موجود ہے کہ قسم دینے کا عرف میں مقصد یہ ہوتا ہے کہ حاکم اس اطلاع پر شرکا تدارك کرے اور یہ تدارك صرف ولایت سے ہوسکتا ہے تو لازمًا یہ قسم ولایت کے زمانہ سے مقید ہوگی۔ ہدایہ میں ہے کہ جب والی نے ایك شخص کو قسم دی کہ تو مجھے شہر میں کسی فسادی کے داخل ہونے پر اطلاع دے گا۔ تو یہ قسم اس والی کی ولایت کے زمانہ سے مختص ہوگی کیونکہ والی کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس اطلاع پر شریر کو سزادے کر شر کاخاتمہ کرے، لہذا ولایت کے خاتمہ کے بعد اس قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہے،فتح القدیر میں ہے کہ قسم کا زمانہ ولایت سے مختص ہونا دلالتِ حال کی وجہ سے ہے اور وہ یہ کہ اس قسم دینے کا مقصد شریر کو سزادے کر اس کے یاغیر کے شرکو ختم کرنا ہے جبکہ یہ مقصد اس والی کی ولایت سے حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ ولایت کی وجہ سے وہ اس مقصد پر قادر ہوتا ہے(ت)(٢) مقروض جب قرض سے انکار کرے اور قرض خواہ کے پاس گواہ نہ ہوں تو قرض خواہ قسم اٹھائے کہ میں تجھے قاضی کے دربار میں پیش کروں گا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع