30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول فیہ ان الحیاۃ عرض لاتبقی زمانین فالحیاۃ التی بعد الحلف غیر التی کانت عند الحلف والجواب ان مبنی الایمان علی العرف واھل العرف یعدونھا واحدۃ مستمترۃ والمعادۃ غیرھا۔
اقول: لکن لقائل ان یقول لانظر فی الحلف الی تلك الحیاۃ خصوصھا بل الی تسلیم زمانہ فی ھذاالامر الاباذنہ مثلا والشخص لایتبدل بتبدل الحیاۃ بدلیل الحشر والعقد فی تلك الحیوٰۃ غیر العقد علی تلك الحیاۃ والاذن وان لم یکن الامن حی فلا یستلزم ذٰلك عقد الحلف علی تلك الحیاۃ بعینھا الا تری ان الاذن لایمکن ایضا الامن عاقل ولو جُنّ فلان لایسقط |
ہوکر اجازت دے یا آجائے،تواس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے کی حیات اس حیات کا غیر ہے جس حیات سے اجازت یا آمد کی قسم کھائی تھی اور قسم والی یہ حیات وہ ہے جوقسم کے وقت تھی، کیونکہ حیات ایك ایسا عارضہ ہے جس کوبعینہ واپس لانا ممکن نہیں اگرچہ روح واپس ہوجائے کہ روح اور حیات آپس میں ایك دوسرے کے مغایر ہیں کیونکہ حیات، روح والی چیز کی روح کا لازم ہے نہ کہ وہ روح ہے اھ(ت) اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر یہ حاشیہ لکھا جس کی عبارت یوں ہے اقول:(میں کہتا ہوں)اس کلام میں بحث ہے کہ حیات جب عرض ہے تووہ دوزمانوں میں باقی نہیں رہ سکتی تواس سے لازم آئیگا کہ حلف کے بعد والی حیات بھی حلف کے وقت والی حیات کا غیر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قسموں کی بنیاد عرف پر ہوتی ہے تو عرف والے لوگ مختلف اوقات کی حیات کو ایك ہی جاریہ حیات قرار دیتے ہیں لیکن موت کے بعد والی حیات کو پہلی حیات کے مغایر قرار دیتے ہیں۔ اقول(میں کہتاہوں) لیکن یہاں اعتراض ہوسکتا ہے کہ قسم میں خاص اس زندگی کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ یہاں یہ بات پیشِ نظر ہوتی ہے کہ قسم کھانے والے کو زمانہ اگر یہ موقعہ دے کہ مثلًا وہ فلاں سے بات کرسکے تو وہ اسکی اجازت کے بغیر نہ کرے گا، جبکہ حیات کی تبدیلی سے شخص تبدیل نہیں ہوتا کیونکہ مرنے کے بعد حشر میں وہی شخص ہوتا ہوگا تو اس زندگی میں قسم کھانے کا یہ مطلب نہیں کہ اسی زندگی پر حلف کادارمدار ہے، اجازت کا تعلق اگرچہ زندہ سے ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حلف کا تعلق خاص اسی زندگی سے ہو، دیکھئے اجازت صرف عقل والے سے ہی متصور ہوسکتی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع