30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کہ یمین بزوال ملك منتہی شد وباز بہ عودش نکنند ہمچناں اگر شوہر زن یا مولیٰ غلام یا شہ یکے از رعایا را حلف دہد باخودسوگند خورد کہ بے اذن من بیروں نروی متقید ماند بزمان بقائے زوجیت وملك ملك تاآنکہ اگر زن را جدا کرد باز بزنے آورد یا غلام را فروخت باز خرید یا معزول باز منصوب شد ودریں ملك وملك حادث زن وغلام ورعیت بے اذن بیرون روند حنث روئے ننماید کہ ولایت اذن ہمیں تابقائے نکاح وملك وملك بود ودر حدوث تازہ یمین تازہ نکرد ولہذا اگر بے تقیید بودند کررست ولہذا اگر زن را گوید اگر بے اذن توزنے را بزنے می گیرم مطلقہ باشد یمین مطلقہ غیر مقیدہ باشد تا آنکہ اگر زن را نکاح بروں کردبا زنے بے اذن اولٰی بنکاح آورد مطلقہ شود زیرا کہ زن بزنے مالك اذن ومنع نمی شود پس دلیل تقیید منتفی شد واذن ومنع نمی شود پس دلیل تقیید منتفی شد واذ ن بر اذن لغوی محمول گشت نہ اذن شرعی واذن لغوی مقتصر بر بقائے زوجیت نیست آرے آں روز کہ آں زن میرد یمین منتہی شود کہ حالا او را صلاحیت اذن نماند،دردرمختار بعد عبارت مذکورہ فرمودلو قال لھا ان خرجت من ھذہ الدار الا باذنی فانت طالق ثلثا فطلقھا بائنا فخرجت
|
کے ساتھ ہوتی ہے حتی کہ اگر اس سلطان کو معزول کردیں تو اب اگر قیدی اس کی اجازت کے بغیر ملك سے باہر چلا جائے تو قیدی کی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ وہ قسم سلطان کے معزول ہونے پر ختم ہوگئی، اوردوبارہ سلطان کے بحال ہونے سے قسم بحال نہ ہوگی، اسی طرح اگر خاوند کو یاآقا اپنے غلام کو یا بادشاہ اپنی رعیت میں سے کسی کو قسم دے یا وہ خود قسم کھائے کہ میری اجازت کے بغیر باہر نہ جائے، تو یہ قسم بھی بقاءِ زوجیت، بقاءِ ملک، بقاءِ مُلك کے ساتھ مقید ہوگی، حتی کہ اگر بیوی کو نکاح سے خارج کردیا اور اس کے بعد دوبارہ نکاح کیا یا مالك نے غلام کو فروخت کردیا اور دوبارہ خریدایا معزول شدہ کو دوبارہ بحال کردیا تو اس دوسری نئی زوجیت، ملک، مُلك میں، بیوی، غلام، رعیّت بغیر اجازت کے باہر چلے جائیں تو حانث نہ ہوگا، کیونکہ ان لوگوں کو اذن واجازت کی ولایت اس وقت کی موجودہ ولایت تك تھی اور بعد میں دوبارہ نئی ولایت حاصل ہونے پر دوبارہ قسم بحال نہ ہوگی، لہذا اگر بیوی کو باہر جانے سے روکنے کےلئے بیوی کو قسم دی یا خود قسم کھائی جس میں اجازت کی قید کا ذکرنہیں ہے، اس لئے اگر بیوی کو کہا کہ میں تیری اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کروں تو اس کو طلاق ہوگی تویہ قسم مطلق اور بغیر قید ہوگی، حتی کہ اگر پہلی بیوی کو نکاح سے خارج بھی کردے تب بھی اس کی اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کرنے پر دوسری کو طلاق ہوجائیگی کیونکہ بیوی دوسری عورت سے نکاح کوروکنے اور اجازت دینے کی مالك نہیں بن سکتی، اس لئے اس صورت میں اجازت کا ذکر ہونے کے باوجود وہ قید نہ ہوگی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع