30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فضرت بہ کما امرہ اﷲ تعالٰی اھ[1]۔
اقول: وھذا احسن ما سمعناہ فی الباب وعلیہ التعویل ولااصغاء الی مازاد الناس من تھویل وقال وقیل من دون اصل اصیل واﷲ الھادی الٰی سواء السبیل ودر مسائل مذکورہ وجہ نہ آنست بلکہ آنجا تقیید ونفس بیان ست زیرا کہ بااذن مقید کردہ اندپس مخصوص باشد بزمانہ ولایت آنہا مراذن ومنع راوآں نیست مگر زمان قیام دین و کفالت ولہذا اگر کہ سلطان اسیرے راحلف دہند کہ بے اذن ملك ایشاں برون نرود متقید ماند بزمان بقائے سلطنتش تاآنکہ اگر اورامعزول کنند باز نشانند واسیر بے اذن او بیروں رود حانث نشود |
ہوتی (قرآن پاك میں اس واقعہ کو اشارۃً بیان فرمایا گیا) ابن منذر نے سعید بن مسیّب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ سعید بن مسیّب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی بیوی کو سو چھڑی مارنے کی قسم کھائی کہ بیوی محنت سے روٹی مہیا کرتی تھیں ایك روز اس نے زائد روٹی آپ کی خدمت میں پیش کی جس پر آپ کو خطرہ محسوس ہواکہ ہوسکتا ہے کہ یہ زائد خوراك کسی کے مال میں خیانت کرکے لائی ہیں،تو جب اﷲ تعالٰی کی طرف سے آپ پر خاص رحمت کے ذریعہ تکلیف کی شدت ختم ہوئی اور بیوی کے بارے میں جو آپ کو شبہ تھا اس کی برأت معلوم ہوئی تو اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ آپ ایك مٹھا لے کر اپنے ہاتھ سے اس کو ماردیں اور قسم نہ توڑیں، تو آپ نے شاخوں کا ایك مُٹھا جو سو چھڑیوں کا مجموعہ تھا، لے کر اﷲ تعالٰی کے حکم کے مطابق بیوی کو مارا اھ۔(ت) اقول:(میں کہتا ہوں کہ) یہ واقعہ اس بحث میں بہترین دلیل ہے جو ہم پرواضح ہوئی اور اسی پر اعتماد ہوناچاہئے اور اس پرلوگوں کی زائد باتوں اور بے اصل قیل وقال پر تو جہ نہ دی جائے، اور اﷲ تعالٰی ہی سیدھے راستے کی رہنمائی فرماتا ہے اور اس شبہ میں ذکر کردہ مسائل کی وجہ وہ نہیں جو شبہ کرنے والوں نے ظاہر کی، بلکہ وہاں قسم کی تقیید اور اس کابیان ہے کیونکہ انہوں نے وہاں اذن (اجازت) کے ساتھ مقید کرکے اس قسم کو اذن و منع کی ولایت کی مدت کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور ولایت کی یہ مدت صرف قرض وکفالت کے زمانہ تك ہے، اسی لئے اگر کوئی سلطان کسی قیدی کو قسم دے کہ تو میری اجازت کے بغیر میرے ملك سے باہر نہ جائے گا تو یہ قسم اس سلطان کی حکومت کی بقا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع