30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سوگند خورد صد چوب زند باوخشم رفت وباعلام الٰہی براتِ خاتون ظاہر گشت فاما یمین برجاماند تا آنکہ حضرت عزّت جل جلالہ راہ خلاص ازاں تعلیم فرمود کہ وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ [1]دستہ بدست گیرد زن را زن وسوگند مشکن پیداشد کہ بزوال حامل وانتفائے سبب یمین باطل نشود ،اخرج ابن المنذر عن سعید بن المسیّب رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلغہ ان ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام حلف لیضربن امرأتہ مائۃ فی ان جاءتہ فی زیادۃ علی ماکانت تأتی بہ من الخبز الذی کانت تعمل علیہ وخشی ان تکون قارفت من الخیانۃ فلما رحمہ اﷲ وکشف عنہ الضر علم براءۃ امرأتہ مما اتھمھا بہ فقال اﷲ عزوجل" وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ فاخذضغثامن ثمام وھو مائۃ عود
|
ایك بائنہ طلاق دے دے اور اس کی عدت گزرجائے تو پھر اس فلاں سے بات کرے اور اس کے بعد دوبارہ بیوی سے نکاح کرلے، تو ان فقہاء نے اس قسم کے تکلفات کیوں فرمائے اور یہ کیوں نہ فرمادیا کہ یہ غصہ اور ناراضگی کی قسم تھی تو غصہ وناراضگی ختم ہوگئی اور مصالحت ہوگئی تو قسم خود بخود ختم ہوگئی،دیکھئے حضرت سیدنا ایوب علیہ وعلی نبینا الصلوٰۃ والسلام اﷲ تعالٰی کے پیارے نبی ہیں کہ آزمائش وابتلاء کے دور میں آپ کی پاکیزہ بیوی جن کا نام رحمہ بنت آفرائیم، یا میشا بنت یوسف بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم علیہم الصلوٰۃ والسلام تھا، وہ آپ کےلئے محنت ومزدوری کرکے خوراك مہیّا فرماتی تھیں، ایك دن انہوں نے حضرت ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں زیادہ کھانا پیش کیا تو حضرت ایوب علیہ السلام کو گمان ہوا کہ شاید وہ کسی کا مال خیانت کے ذریعہ حاصل کرلائی ہیں اس پر آپ کو غصہ آیا تو آپ نے قسم کھائی کہ اس کو ایك سو چھڑی ماروں گا، اس کے بعد اﷲ تعالٰی کی طرف سے بیوی کی برأت معلوم ہوئی تو آپ کا غصہ ختم ہوا مگر قسم باقی تھی اسی لیے اﷲ تعالی نے آپ کو اس قسم سے خلاصی کی تعلیم دی کہ سوچھڑیوں کا مٹّھا ہاتھ میں لے کر ایك دفعہ ماردیں اور قسم نہ توڑیں، تو اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ قسم کا سبب اور داعی ختم ہوجانے کے باوجودقسم باقی رہتی ہے اوراس کے خاتمہ سے قسم ختم نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع