30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شد و جملہ احکام نظری تا آنکہ اگر کسے سوگند خورد کہ اگر بازید سخن کند زن سہ طلاقہ ست بازمی خواہد کہ بااوسخن گوید چہ بایدش کرد کہ طلاق مغلظ واقع نشود اور ا فرمودہ اند کہ زن رایك طلاق بائن دہد وبگزارد تا از عدت برآید باز بازید سخن راند جزا فرود آید ومحل نیابد وبے اثر رود باز بازن نکاح کندوبازید ہمکلام ماندد گر طلاق نیفتد کہ یمین بیکبار منحل شد۔ در سراجیہ باز ہندیہ فرمود اذاحلف بثلث تطلیقات ان لا یکلم فلانا فالسبیل ان یطلقھا واحدۃ بائنۃ و یدعھا حتی تنقضی عدتھا ثم یتکلم فلانا ثم یتزوجھا [1] اینہمہ تکلفات چراست چرانگفتند کہ چوں آں خشم رفت وباہم مصالحت شد سوگند خود باطل گشت،واین ست نبی اﷲ سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام در ایام بلازوجہ مقدسہ اش رحمہ بنت آفرائیم یا میشا بن یوسف بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم بمزدوری ومحنت نان پیدا کردے وبرائے نبی اﷲ آوردے روزے نان بسیار ے آورد نبی اﷲ گمان برد مباد امال کسے بخیانت گرفت خشم کرد
|
کاکوئی اثر نہ رہے، کیاآپ نے دنیا میں کبھی کسی سے یہ بات سنی ہے، حالانکہ ائمہ کرام نے ان مذکورہ قسموں کی بابت گوناگوں بحثیں کی ہیں اور طرح طرح کی تفریعات بیان کی ہیں، اور ان کے متعلق ہر پہلو سے بلند تحقیقات اور عجیب تنقیحات کے دریا بہادئے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی کسی جگہ کسی کتاب میں یہ بات نہ فرمائی کہ یہ تمام قسمیں غصہ تك ہیں جب غصہ ختم ہوجائے اور رضامندی ہوجائے تو قسمیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں، اوران کے تمام غور وخوض پر مبنی احکام محض تکلّف بن کر رہ جائیں، مثلًا اگر کسی نے قسم کھائی کہ اگر زید سے بات کروں تو بیوی کو تین طلاقیں ہیں، پھر یہ قسم کھانے والا زید سے بات کرنا چاہتا ہے تو کیا کیا جائے کیونکہ بات کرنے پر بیوی کوتین طلاقیں پڑتی ہیں اور کیا صورت ہو کہ بات کرلے اور تین طلاقیں نہ پڑیں، تو ایسے شخص کوان فقہاء کرام نے فرمایا کہ یہ شخص اپنی بیوی کو ایك طلاق بائنہ دے دے تو اس کی عدت پوری ہونے کے بعد زید سے بات کرے تو اب اس پر جزایعنی طلاق وارد ہوگی لیکن اس وقت بیوی بائنہ ہوجانے کی وجہ سے طلاق کا محل نہ رہے گی، کیونکہ ایك دفعہ قسم ٹوٹ چکی ہے اور ختم ہوچکی ہے۔سراجیہ پھر ہندیہ میں فرمایا کہ جب کسی نے تین طلاقوں کی قسم کھاکر کہا میں فلاں سے بات نہ کروں گا، تو اس کےلئے تین طلاقوں سے بچنے کی سبیل یہ ہے کہ بیوی کو پہلے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع