30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایحنث [1]درتنویر فرمود حلف رب الدین غریمہ او الکفیل بامرالمکفول عنہ ان لایخرج من البلد الا باذنہ تقید بالخروج حال قیام الدین بالکفالۃ٢ [2]وپیدا است کہ ایں جا سبب یمین ہمیں خشم وناراضی ست چوں برضا بدل شد سبب نماند ومسبب رفت،
اقول: چناں نیست نہ ہیچ کس باوقائل ورنہ عامہ ایمان عامہ کہ مبتنی برخشم وناچاقی وغضب ونااتفاقی باشد بفلاں سخن نکند، ورویش نہ بیند بخانہ اش نہ رود وبخانہ اش راہ نہ دہد، اوراصد چوب زند چنیں کند، چناں کند، ورنہ زن طلاقہ شود وغیرذٰلك ہزاراں ھزار سوگند ھمہ بمجرد زوال خشم برباد رفتے وبے حنث وکفارہ ولزوم ہیچ جزا باطل شدے واصلًا احتیاج احتیال بر اثر بر نماندے آیا ہیچکس بجہاں قائل ایں قول شنیدہ، ائمہ کرام در ایمان مذکور بصورتہائے گو نا گوں وتفریعات بو قلموں بہ نقیر و قطمیر سخن فرمودہ وبہر پہلوئے آنہا موج موج تحقیاتِ رفیعہ وفوج فوج تنقیحات بدیعہ نمودہ فاما ہیچگاہ ہیچ جابہ ہیچ کتاب نگفتہ اند کہ ایں ہمہ برودمات تابقائے خشم ست چوں رضا آمد سوگند سپری |
اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہ جائے گا، تو جب اصیل نے قرض والے کا قرض ادا کردیا تو پھر وہ اس کی اجازت کے بغیر شہر سے باہر گیا تو قسم نہ ٹوٹے گی۔تنویر میں فرمایا کہ اگر قرض خواہ نے مقروض کو یا کسی معاملے کے ضامن نے اپنے مکفول کو قسم دی کہ تو میری اجازت کے بغیر باہر نہ جائے گا تو نکلنے کے متعلق یہ قسم قرض کی بقاء اور کفالت کی بقاء سے مقید ہوگی کہ قرض و کفالت ختم ہوجائے تو یہ قسم بھی ختم ہوجائے گی، تو مذکورہ بیان سے واضح ہوگیا کہ زیر بحث مسئلہ میں قسم کا سبب بیٹے پر باپ کی ناراضگی اور غصہ ہے تو جب یہ غصہ و ناراضگی رضا میں بدل گئی تو یہ سبب ختم ہوگیا تو مسبب یعنی بیوی کے متعلق طلاق کی قسم بھی ختم ہوگئی، اقول:(میں کہتا ہوں) ایسا ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کا قائل ہے ورنہ عام قسمیں جو غصہ اور ناراضگی، نااتفاقی پر مبنی ہوتی ہیں، مثلًا فلاں سے بات نہ کروں گا، فلاں کی شکل نہ دیکھوں گا، فلاں کے گھر نہ جاؤں گا، فلاں کو گھر کی راہ نہ دوں گا، فلاں کو ایك سو چھڑی ماروں گا، اگر ایسا کروں تو یہ ہوجائے یا وہ جائے، یا بیوی کو طلاق ہوجائے وغیرہ، تولازم آئے گا کہ ہزار ہا قسمیں غصہ ختم ہوجانے پر برباد ہوجائیں اور بغیر کفارہ اور بغیر حانث ہوئے ختم ہوکر رہ جائیں، اور ان قسموں پر کوئی جزا لاگو نہ ہو اور ان قسموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اصلًا کسی حیلہ کی ضرورت پیش نہ آئے، اور ایسی قسموں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع