30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عنہ وما لاتصلح داعیۃ اعتبر فی المنکر دون المعرف[1]۔ اقول: محلش آنجاست کہ در حلف آن صفت داعیہ را ذکرکردہ باشد اگرچہ در معرف اگرچہ بالاشارہ باآنکہ وصف در حاضر لغواست ولہذا الوحلف لایکلم ھذا الصبی فکلمہ شابا حنث اماداعی بود نش داعی اعتبارش میشود چنانکہ در ھذا البسر وھذا الرطب وھذا اللبن الٰی غیرذٰلك ورنہ وصف ملحوظ رامدار بقائے یمین نتواں کرد کہ بنائے ایمان بر الفاظ ست نہ براغراض،در فتح القدیر فرمود من صور تخصیص الحال ان یقول لااکلم ھذاالرجل وھو قائم ونوی فی حال قیامہ فنیتہ لغو بخلاف مالو قال لا اکلم ھذا الرجل القائم فان نیتہ تعمل فیما بینہ وبین اﷲ تعالٰی[2]پیدا ست کہ در دیانت صفت داعیہ وغیرداعیہ یکساں ست نیت خصوص باید امابے ذکر در لفظ نیت مجردہ دیانۃً نیز بکار نیامد تابقضا چہ رسد،ہمدران ست ان خرجت فعبدی حرو نوی السفر مثلا یصدق دیانۃ فلا یحنث بالخروج الٰی غیرہ تخصیصا لنفس الخروج مالونوی الخروج |
جو قسم کا سبب بن سکتی ہے تو وہ قسم اس صفت سے مقید ہوگی خواہ وہ چیز معرفہ کے طور پر مذکور ہو یا نکرہ مذکور ہو تو جب وہ صفت ختم ہوجائے تو قسم بھی ختم ہوجائے گی اور اگر اس چیز کی صفت قسم کا سبب بننے والی نہ ہو تو پھر اس کو نکرہ ذکر کرنے پر قسم میں اس کی صفت کا اعتبار ہوگا معرفہ میں اعتبار نہ ہوگا۔ اقول(میں کہتا ہوں) اس قاعدہ کا محل وہ ہے جہاں قسم کا سبب بننے والی صفت کو قسم میں ذکر کیا گیا ہواگرچہ وہ معرفہ کے طور پر مذکور ہو خواہ معرفہ اشارہ سے بنایا گیا ہو کیونکہ اشارہ حاضر چیز کی طرف ہوتا ہے باوجود یکہ حاضرین میں صفت کا ذکر لغو قرار پاتا ہے، اسی لئے اگر قسم کھائی کہ میں اس بچے سے بات نہ کروں گا تو اگر اس سے جوانی میں بات کی تو تب بھی حانث ہوگا، تاہم وصف اگر قسم کا داعی ہوگا تو اس کے اعتبار کا بھی داعی ہوگا، جیساکہ یہ بسر اور یہ رطب وغیرہ میں اور یہ دودھ، وغیرہ میں یہ صفات قسم کا داعی ہونے کے ساتھ قسم میں بھی معتبر ہیں، اگر ایسا نہ ہوتو پھر وصف داعی بھی ہوتو غیر معتبر ہونے کی صورت میں اس کی بقاء قسم کی بقاء کے لئے مدار نہیں بن سکتی کیونکہ قسمیں الفاظ پر مبنی ہوتی ہیں اغراض پر مبنی نہیں ہوتیں،فتح القدیر میں فرمایا حال کی تخصیص کرنے کی صورت یوں ہے کہ ایك شخص کھڑا ہوتو کوئی اس کے بارے میں قسم کھائے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع