30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کسے عــــہ۱ آید جائے جواب بہتر بیند آنہمہ راپیش نہم وبتوفیقہ تعالٰی عــــہ۲ اماوہم شبہہ اولیٰ پسر را مرد بخانہ گزاشت نہ زن اقول ایں درایواگنجائش داشت کہ فعل حقیقۃً از فاعل ست و بہ ساکت اگر منسوب شود بمعنی رضا ومجاز باشد اما گزاشتن کہ تخلیہ وترك تعرضات شك نیست کہ از زن حقیقۃً متحقق ست مرد عــــہ۳ زن را منع نکر داوداشت ایں گزاشت پس در ترك زن چہ جائے ظن۔ شبہہ ثانیہ: زن تابع است ولا حکم للتبع مع الاصل اقول: لامرد للحقائق در صدور ترك تعرض از زن جائے سخن نیست سائل خود گوید کہ زن چیزے از لاونعم نہ گفت وہمیں قدر شرط حنث بود بیش ازیں درکار نیست آیا نہ بینی کہ در مکان غیرشرط برنہی بالقول داشتہ اند گوبخانہ آرندہ محلوف علیہ خود صاحبِ خانہ باش یادیگر آوردیا خود آمد وصاحب خانہ ہم معترض نہ شد لاطلاق حکم الکل فی جمیع الکتب بلکہ تصریح فرمودہ اند کہ امر عدمی بحالت اکراہ نیز موجب حنث شود چہ جائے رضا ولو تبعا، امام قاضی خاں فرماید الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل فرق و
|
شبہات دل پروارد ہوئے اس خیال سے کہ شاید کسی کے ذہن میں آئیں تو ان کو وہ جواب کے لئے بہتر خیال کرے، اس لئے میں ان سب کو پیش نظر رکھتے ہوئے بحث کرتا ہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے۔ لیکن پہلے شبہہ کا وہم، وہ یہ کہ مسئولہ صورت میں گھر میں بیٹے کومرد نے چھوڑا، بیوی نے نہیں چھوڑا۔ اقول(میں کہتا ہوں) اس شبہہ کی گنجائش یہاں اس بنیاد پر ہے کہ فعل حقیقۃً فاعل کا ہوتا ہے اور اس فعل پر خاموش رہنے والے کی طرف وہ فعل رضا کے طور مجازًا منسوب ہوسکتا ہے، لیکن یہاں"چھوڑنا" جوکہ تخلیہ اور تعرض نہ کرنا ہے، یہ بیشك بیوی سے حقیقتًا متحقق ہوچکا ہے، مرد نے اس پر بیوی کو منع نہ کیا اور اس نے اس چھوڑنے کو قائم رکھا، تو اس سے بیوی کے فعل کے نہ ہونے کا گمان کہاں ہوسکتا ہے۔(ت) دوسرا شبہہ: یہ کہ، بیوی مرد کے تابع ہے تو اصل کی موجودگی میں تابع پر حکم نہیں ہوتا، اقول (میں کہتا ہوں کہ) حقائق کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ بیٹے سے تعرض نہ کرنا، بیوی سے اس کے صادر ہونے میں شبہہ نہیں ہوسکتا کیونکہ سائل نے خود کہا ہے کہ بیوی نے اس موقعہ پر ہاں یانہ، کچھ نہ کہا، توحانث ہونے کےلئے بس یہی کافی ہے اس سے زیادہ کوئی ضرورت نہیں، صرف زبانی روکنا ہی کافی قرار دیا گیا ہے، جس کے بارے میں قسم کھائی ہے اس کو گھر لانے والا خود صاحبِ مکان ہو یا کوئی غیر ہو یا وہ خود آجائے اور گھر والا، آنے پر اعتراض نہ کرے، ہر صورت میں حانث ہوتا ہے کیونکہ |
عــــہ۱:مسودہ میں بیاض ہے۔ عــــہ۲: مسودہ میں بیاض ہے۔ عــــہ۳: مسودہ میں بیاض ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع