30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاثبات تکفی مرۃ کان قال ان لم تمنعی تطلقی ای ان منعت فلافاذا انھت نحت والیمین قد انتھت۔
ثانیًا اقول: من قدر علی المنع بالفعل فاکتفی بہ کفی اذ لایصح ان یقال انہ ترك وخلی بل اتی بما ھو نھایۃ المعنی و مقصد ہ الاعلی فلیس علیہ ان یجمع معہ القول جمعا فما یتوھم من ظاہر لفظ الواقعات والنوازل وثانی عبارات الخانیۃ واربعھا والوجیز لیس مراد قطعا۔
ثالثًا اقول: عند الفقیہ شرط برہ المنع فلفظ الملك وقع زائدافی عبارۃ النوازل اماالملك ای القدرۃ فشرط |
توایك بار زبانی یہ کہہ دینے سے تو عاجز نہ تھی کہ گھر میں مت آ، یا باہر جا، روکنے کا مقام ابتدائی مرحلہ میں ہوتا ہے جب ابتداء میں وہ خاموش رہی تو بیٹے کو گھر میں چھوڑنا متحقق ہوگیا اور طلاق کی وجہ پائی گئی اور طلاق ہوگئی، بعدمیں منع کرنا اور روکنا بے سود ہے اگر وہ ابتداء میں ایك بار بھی زبان سے روك دیتی تو قسم ختم ہوجاتی کیونکہ قسم میں ہمیشگی کےلئے"کلما" کا لفظ نہ تھا ایك دفعہ روکنے کے بعد اگر نہ روکنا باقی رہتا تو کوئی حرج نہ تھا،یہ تمام گفتگو علماء کرام کے مذکورہ نصوص سے واضح ہے۔ اقول:(میں کہتا ہوں) اس میں نکتہ یہ ہے کہ تخلیہ یعنی لا تعلقی عدمی چیز ہے کیونکہ یہ، نہ روکنے اور نہ چھیڑنے کا نام ہے تو شرط میں اس تخلیہ کا اثبات کیا گیا جس سے یہ منفی بن گیا اور جب اس منفی کا ترك ہوا تو نفی پر نفی ہو جانے سے اثبات ہوگیا(یعنی نہ روکنے کا عدم ہوجانے سے روکنا متحقق ہوگیا)تو قسم کے پورا ہونے کے لئے ایك دفعہ اثبات یعنی روکنا کافی ہے جس کا ماحصل یوں ہوا، گویا اس نے بیوی کو کہا اگر تونے منع نہ کیا تو تجھے طلاق ہے یعنی اگر تو منع کردے تو طلاق نہ ہوگی تو جب وہ منع کردے تو طلاق سے بچ گئی اور قسم ختم ہوگئی۔ (ت) ثانیًا اقول:(دوسری بات کہتا ہوں کہ) جو عملًا روکنے پر قادر ہو عملًا روکنے پر اکتفاء کردینا کافی ہے کیونکہ اس عملی رکاوٹ پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے گھر میں اسے چھوڑ ا اور اس سے لاتعلق رہا، بلکہ اس نے شرط کا مقصد پورا کردیا اب اس پر زبانی منع کرنا لازم نہ رہا، تو واقعات اور نوازل اورخانیہ کی دوسری اور چوتھی عبارت اور وجیز کی ظاہر عبارات سے جو وہم ہوتا ہے وہ قطعًامراد نہیں ہے(ت) ثالثًا اقول: (تیسری بار کہتا ہوں کہ) فقیہ ابواللیث کے نزدیك قسم پورا کرنے کی شرط صرف روکنا ہے،لہذا نوازل کی عبارت"ملك المنع" میں"ملک" کالفظ زائد ہے، لیکن اگر ملك سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع