دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

اختیار تام جزبر اطفال صغار نماند لہذا تفریق صغیر و کبیر کردند کہ نیز از ہماں دادی است دیگراں نظر بفساد زمان گفتند کہ غالبا منع بتدافع وتدافع بتضارب انجامد وآتش فتنہ سر بالا کشود والفتنۃ اشد من القتل لہذا از سر اقتصار بر سخن کردند ومراد جملہ یکے وباﷲ التوفیق، بالجملہ بریں قدر اتفاق ست کہ نگزا شتن راکم از کم بزبان باز داشتن ناگزیر است ہرکہ ایں رازن آں پسر را برآوردن نتوانست آخر کم نہ ازاں کہ یکبار گفتی میاں یا بیروں رود محلش نہ بود مگر اول وہلہ چوں آں گاہ خموشی گزید گزاشتن حاصل شد وطلاق نازل باز منع بے سود ولاطائل واگرآں وقت یکبار منع کردی سوگند منتہی شدے کہ مصدر بکلمہ کلما نبود پس ازاں ترك اگرچہ مستمر ماندے زیاں نہ رساندے وکل ذٰلك واضح مما قدمنا من نصوص العلماء

اقول:والسرافیہ ان التخلیۃ عدمیۃ لانھا عدم النھی والتعرض وقد اثبتت فی الشرط فیکون منفیۃ ونفی النفی اثبات و

 

طاقت رکھتا ہے تو پھر زبانی روکنا کافی نہ ہوگا کہ ایك بار زبانی منع کردے اور کہے کہ یہاں نہ آیا باہر ہوجا بلکہ عملی اور زبانی ہر طرح روکنا ہوگا ورنہ اندر چھوڑا تو قطعًا حانث ہوجائے گا، اور جو روکنے پر قدرت نہیں رکھتا گو وہ گھر اس کا اپنا ہو اور بیٹا بھی صغیر ہو تو زبانی روکنا ہی کافی ہے،مثلًا قسم کھانے والا اپاہج ہو یا معذور ہو یا مفلوج ہو اور بیٹا تیرہ چودہ سال کا شریر ہو کہ فرمانبرداری نہیں کرتا، تو ایسی صورت میں مجبورًا زبانی روکنا ہی کافی قرار پائے گا، چونکہ اپنے ذاتی گھر میں کلی اختیار ہونا اغلب ہے اورفقہی احکام کا مدار بھی غالب امور پر ہوتاہے اس لئے امام صدر شہید نے اپنے اور غیر گھر کا فرق ذکر کیا ہے ورنہ یہ قاعدہ کابیان نہیں ہے، اور چونکہ آخر زمانہ میں باپ کو صرف صغیر بیٹے پر ہی مکمل اختیار ہوتا ہے اس لیے فقہاء نے صغیر وکبیر بیٹے کا فرق بیان کرنا بھی اسی وجہ سے ہے، دوسرے فقہاء نے زمانہ کے فساد کو ملحوظ رکھتے ہوئے صرف زبانی روکنے کو ذکر کیا کیونکہ اغلب طور پر روکنے کے لئے عملی رکاوٹ ضروری ہوتی ہے اور عملی رکاوٹ مار پیٹ سے ہوتی ہے جبکہ اس سے فتنہ کی آگ بھڑك اٹھتی ہے اور فتنہ، قتل سے بھی برا ہے، اس لیے تمام عبارات کا ماحاصل ایك ہی ہے ، یہ توفیق بیان اﷲ تعالٰی کی طرف سے ہے۔تاہم خلاصہ یہ ہے کہ نہ چھوڑنے کےلئے کم از کم زبانی روکنا ضروری ہے، تو جب کسی نے زبانی روکنے کا عمل بھی نہ کیا تو گویااس نے چھوڑا۔ تو زیربحث مسئلہ میں بیوی اگر بیٹے کو عملًا باہر نہیں نکال سکتی تھی

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن