30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذ قال ان ترکت فلانا یدخل ھذہ الدار فامرأتی طالق فان کان الحالف یملك ھذہ الدار فشرط برہ ان یمنعہ عن الدخول بالقول الفعل ھکذا ذکرہ الصدر الشہید رحمہ اﷲ تعالٰی فی واقعاتہ، وفی النوازل شرط برہ ملك المنع ولم یعترض لملك الدار فقال ان کان الحالف یملك منعہ عن الدخول فھو علی النھی والمنع جمیعا وان کان لایملك منعہ فھو علی النھی دون المنع وکان شیخ الامام ظھیرالدین یعتبر ملك المنع وعلیہ الفتوی١[1]۔ اقول: اینجا تنبہ باید برامور اولا عبارات علما چنانکہ دیدی در مسئلہ عدم ترك فلاں مثلًا نگزارم کہ بخانہ آید بر رنگہائے مختلف آمدہ امام صدر شہید اعتبار ملك دار فرمود کہ اگر خانہ خانہ اوست منع بقول وفعل کند اگر تنہا بنہی زبانی عمل نماید حانث ہمیں است نص دوم امام قاضی خاں، آرے اگر خانہ ملك اونیست منع زبانی بس است،وامام فقیہ ابواللیث ملك منع رامعتبر داشت کہ اگر بزور باز داشتن تواند مجرد نہی کفایت نکند گوخانہ خانہ اش مباش ورنہ کافی است گوخانہ خود از آں او باش امام ظہیرالدین ہمبریں فتوی داد ونص اول امام قاضی خاں و
|
یوں خانیہ، بزازیہ اور علامہ شرنبلالی کے رسائل میں ہے اور اس میں قنیہ کے حوالے سے ہے کہ ایك نے قسم کھائی کہ میں آج فلاں رہائشی کو ضرور نکال باہر کروں گا، تو وہ رہائشی ظالم اور غالب ہو جس کو نکالنا مشکل ہوتو پھر نکالنے سے مراد زبانی کہنا ہوگا، لہذا زبانی کہہ دینا کہ نکل جا، قسم کے پورا ہونے کے لئے کافی ہے، عالمگیریہ میں ہے کسی نے کہا اگر میں فلاں کو اس گھر میں داخل ہوتا چھوڑوں تو میری بیوی کو طلاق، تو اگر گھر اس کی ملکیت ہوتو پھر قسم پورا ہونے کے لئے زبانی اور عملی دونوں طرح منع کرنا ضروری ہے، اس کو صدرالشہید رحمہ اﷲ تعالٰی نے اپنی کتاب واقعات میں یونہی ذکر فرمایا ہے، اور نوازل میں ہے قسم پورا کرنے کے لئے منع کی قدرت شرط ہے انہوں نے گھر کی ملکیت کا ذکر نہیں فرمایا اور یوں کہا اگر قسم کھانے والا اس کو دخول سے منع کرسکتا ہے تو پھر زبانی اور عملی دونوں طرح منع مراد ہوگا، اور اگروہ دخول سے روکنے پر قادر نہ ہوتو پھر صرف زبانی منع مراد ہوگا،اور امام شیخ ظہیرالدین منع کی قدرت کا اعتبار کرتے ہیں اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)اقول:(میں کہتاہوں یہاں چند امور پر تنبیہ ضروری ہے اول جیساکہ آپ نے دیکھا عدمِ ترك فلاں، یعنی فلاں کو نہ چھوڑوں گا کہ وہ گھر میں آئے، کے مسئلہ میں علماء کرام کی عبارات مختلف ہیں، امام صدر شہید گھر کے مالك ہونے کا اعتبار کرتے ہیں کہ اگر گھر اس کا اپنا ہے تو پھر زبانی اور عملی دونوں طرح سے روکے، اور اگر صرف زبانی روکا تو حانث ہوجائےگا، اور امام قاضی خاں کی دوسری نص بھی یہی ہے، ہاں اگر گھر اس کا اپنا نہ ہوتوپھر زبانی روکنا کافی ہے،اور امام فقیہ ابواللیث نے روکنے کی قدرت واختیار کو معتبر رکھا ہے کہ اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع