30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
القول والفعل [1]بازدر خانیہ فرمود ولو قال ان ترکت فلانا یدخل بیتی فامرأتہ کذا فدخل فلان ولم یعلم بہ الحالف لایحنث وان علم ولم یمنعہ حنث[2]درفتح القدیر آخر ایمان ست حلف لااترك فلانا یفعل کذا کلایمر اولایذھب اولایدخل یبر بقولہ لہ لاتفعل لاتخرج لاتمر اطاعہ اوعصاہ[3] در عقود الدریہ است حلف بالطلاق علی اختہ البالغۃ لااخلیك تسکنین مع حماتك فی الدار فحیث لاتکن الدار للحالف فمنعھا بالقول دون الفعل لایحنث[4] کذا فی الخانیۃ و البزازیۃ ورسائل العلامۃ الشرنبلالیۃ دراں از قنیہ است حلف لیخرجن ساکن دارہ الیوم والساکن ظالم غالب یتکلف فی اخراجہ فان لم یمکنہ فالیمین علی التلفظ باللسان[5]درعالمگیریہ است |
تو میری بیوی کو طلاق، تو اگر بیٹا بالغ ہو جس کو عملًا نہ روك سکتا ہوتو اس کو صرف زبانی منع کرنے پر قسم پوری ہوجائیگی، اور اگر بیٹا نابالغ ہوتو پھر قسم پورا ہونے کے لئے زبانی اور عملی دونوں طرح منع کرنا شرط ہوگا۔اور بزازیہ میں یوں ہے کہ اگر بیٹا بالغ ہوتو پھر صرف زبانی منع کرنا قسم پوراہونے کیلئے شرط ہے اوراگر بیٹا نابالغ ہوتو پھر زبانی اور عملی دونوں طریقوں سے منع کرنا شرط ہوگا۔پھر خانیہ میں فرمایا کہ اگر کسی نے یوں کہا اگر میں فلاں کو اپنے گھر میں داخل ہوتا چھوڑوں تو میری بیوی کو طلاق، پس وہ شخص اس کی لاعلمی میں داخل ہوگیا تو حانث نہ ہوگا، اور اگر اس کے داخلے پر علم ہو اور منع نہ کیا تو حانث ہوگا۔فتح القدیر میں قسموں کے بیان کے آخر میں ہے کہ اگر کسی نے قسم کھائی کہ میں فلاں کو اس کام پر نہ چھوڑوں گا، مثلًا گزرنے نہ دوں گا، جانے نہ دوں گا، داخل نہ ہونے دوں گا، تو صرف زبانی، نہ کر، نہ داخل ہو، نہ گزر کہہ دینا قسم کو پورا کرنے کیلئے کافی ہے وہ مانے یا نہ مانے عقود الدریہ میں ہے ایك شخص نے طلاق کی قسم کھاتے ہوئے اپنی بالغ بہن کو کہا میں تجھے گھر میں تیرے دیوروں کے ساتھ رہتا نہ چھوڑوں گا، توجب وہ گھر قسم کھانے والے کا نہ ہوتو پھر زبانی روکنا مراد ہوگا عملًا روکنا مراد نہیں ہوگا تو زبانی روك دیا قسم پوری ہوجائیگی، |
[1] فتاوی بزازیۃ علی حاشیۃ فتاوی ہندیہ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ٤/ ٣٥٠
[2] فتاوی قاضی خان مسائل الیمین علی الترك نولکشورلکھنؤ ٢/٢٩٧
[3] فتح القدیر کتاب الایمان مسائل متفرقہ نوریہ رضویہ سکھر ٤/٤٧٤
[4] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الطلاق قندھار، افغانستان ١/٣٨
[5] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الطلاق قندھار، افغانستان ١/٥٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع