30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انہ لایحنث اصلا لعدم تصور البر فیما یظھر وھو شرط الانعقاد کما قدصرحوابہ فی مسئلۃ الکوز و غیرہ ھذاماظھرلی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حانث نہ ہوگا،کیونکہ اس صورت میں قسم کا پورا ہونا ممکن نہیں،یہی ظاہر ہورہا ہے کیونکہ قسم منعقد ہونے کے لئے،اس کا پورا ہونا متصور ہو،یہ شرط ہے،جیسا کہ فقہاء نے کوزے کے مسئلہ میں تصریح فرمائی ہے۔یہ ہے جو مجھے ظاہر معلوم ہوا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٢٠٥: ازبنگالہ زین العابدین سراج گنج۔
|
کسے شخص رابرامر شرعی سو گند خدا ورسول داداست کہ اگر چنیں کار خواہی کرد بر تو سوگند خدا ورسول است آنکس سوگند خداورسول در حسابے نیاوردہ ہر کارے از ومنع کردہ بود از راہ سر کشی آں کار کرد شرعًا بر آنکس چہ حکم صادر آید وتعزیرش در پیش آید۔ بینواتوجروا۔ |
اگر کوئی شخص دوسرے کو خداو رسول کی قسم دیتے ہوئے یوں کہے اگر تو نے یہ کام کیا تو تجھے اﷲ ورسول کی قسم ہے، تو وہ دوسرا شخص اس قسم کی پروا نہ کرتے ہوئے جس کام سے منع کیا تھا اس کوکرنے پر بضد رہے تو اس شخص پر شرعًا کیا حکم ہوگا اور اس پر کیا تعزیر ہوگی۔ بینواتوجروا۔(ت) |
الجواب:
|
سوگند بدادن کسے بردیگر ے لازم نمی شود بے آنکہ دیگر سوگند برخود گیرد پذیرد پس در قبول نکردنش برآں الزامے نیست ففی الحدیث ان الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ عبررؤیا فاخبرہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ اصاب بعضا واخطأ بعضا تالیفا للصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان نجھرہ واقسم علیہ صلی اﷲ تعالٰی وسلم فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تقسم[1]۔ |
دوسرے کو قسم دینے سے دوسرے کو اس وقت تك قسم لازم نہ ہوگی جب تك وہ خود قسم نہ اٹھائے لہذا مذکورہ صورت میں دوسرے شخص پر قسم لازم نہ ہوئی اس لئے اگر وہ قبول نہ کرے تو اس پر الزام نہ ہوگا، اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایك خواب کی تعبیر بیان کی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو بتایا کہ یہ تعبیر کچھ درست ہے اورکچھ غلط ہے، یہ بات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تالیفِ قلبی کے طور پر فرمائی کہ خطا کو ظاہر نہ فرمایا۔ اس پر حضرت صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قسم دی کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع