30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من الوجہ المعھودعند الناس کذافی الظہیریۃ بحر[1]اھ ملتقطا۔ |
سے دیوار توڑ کر فورًا نکلنے پر قدرت ہوتو بھی قسم نہ ٹوٹے گی، کیونکہ نکلنے کےلئے معروف طریقے پر نکلنا معتبر ہے، جیساکہ ظہیریہ میں ہے،بحر،اھ ملتقطا(ت) |
اسی میں زیر قول درمختار لویمکنہ الخروج او اشتغل بطلب داراخری او دابۃ وان بقی ایامالم یحنث(اگر نکلنا ممکن ہو یا وہ دوسرا مکان تلاش کرنے یا منتقل ہونے کے لئے سواری کی تلاش میں مصروف ہوگیا اور کئی روز اس تلاش میں گزرگئے تو بھی حانث نہ ہوگا۔ت)فرمایا:
|
ھوالصحیح لان طلب المنزل من عمل النقلۃ فصار مدۃ الطلب مستثنی اذالم یفرط فی الطلب فتح [2]اھ۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
یہی صحیح ہے،کیونکہ دوسرامکان تلاش کرنا یہ منتقل ہونے کاعمل ہے لہذا تلاش کی مدت شمار نہ ہوگی بشرطیکہ تلاش کرنے میں کوتاہی نہ کرے،فتح،اھ۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ٢٠٤:از سیتا پور تامسن گنج دولت کدہ حضرت سید صادق میاں صاحب مرسلہ سید ارتضاحسین صاحب ٢٣جمادی الاول ١٣١٦ھ
زید نے قسم کھائی کہ میں مغرب کی نماز میں امام کے ساتھ آدھی میں شریك ہوں گا،اور وہ وضو کررہا تھا،اب وہ تیسری رکعت میں شریك ہوا،آیا وہ حانث ہوگا یانہیں؟اور آیا اس کو آدھی نماز ملی یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
حانث ہوگا،ظاہر ہے کہ ایك رکعت تین کی تہائی ہے نہ کہ آدھی۔قسم پوری اس وقت ہوتی کہ دو رکوع پاتا کہ دوتہائی اگرچہ نصف سے زائد ہے مگر زیادت مانع بر نہیں،
|
وبھذاالوجہ کان البرمتصورافانعقدت الیمین وان لم یکن للصلوٰۃ الثلاثۃ نصف معتبر فی الشرع نعم ان حلف لیدرکن نصفھا لااقل ولاازید فالظاھر |
تو اس طرح قسم کو پور ا کرنا متصور ہوسکتا ہے لہذا قسم قرار پائے گی اگرچہ شرعًا تین رکعت والی نماز کا نصف نہیں ہوتا،ہاں اگر قسم میں یوں کہا ہو میں اس نماز کا نصف پاؤں گا نہ اس سے کم نہ زیادہ،تو پھر ظاہر یہ ہے کہ بالکل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع