30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کفارہ دینا نہ پڑے،البتہ اگر یہ تہیّہ میں مشغول تھا کہ کسی نے قید کرلیا اور نکلنے نہ دیا توجب تك یہ مجبوری رہے گی حانث نہ ہوگااگرچہ عمر گزرجائے،یوں ہی اگر بریلی کے سواکہیں اس کے رہنے کا ٹھکانا نہیں نہ اپنے ذاتی مال یا حرفت یا تجارت کے ذریعہ سے دوسری جگہ بسر ممکن ہے تو بھی مجبور سمجھاجائے گا جب تك حالت ایسی باقی رہے،
|
فی تنویر الابصار والدرالمختار دوام الرکوب و اللبس والسکنی کالانشاء فیحنث بمکثہ ساعۃ[1]فی رد المحتار یعنی لو حلف لایرکب ھذہ الدابۃ وھو راکبھا اولایلبس ھذالثوب وھولابسہ اولا یسکن ھذہ الدار وھو ساکنھا فمکث ساعۃ حنث فلو نزل او نزع الثوب او اخذفی النقلۃ من ساعتہ لایحنث[2]۔ |
تنویر الابصار اور درمختار میں ہے کہ لباس اور سواری اور سکنٰی پر مداومت کرنا یعنی قسم کے بعد اس کو جاری رکھنا ابتداء عمل کی طرح ہے،لہذا قسم کے بعد ایك گھڑی بھی باقی رکھنے پر قسم ٹوٹ جائےگی، ردالمحتار میں ہے:یعنی اگر قسم کھائی کہ میں اس جانور پر سواری نہ کروں گا جبکہ اس پر سوار تھا یا یہ کپڑا نہ پہنوں گا جبکہ وہ پہنے ہوئے تھا،یااس گھر میں رہائش نہ کروں گا جبکہ اس میں رہائش پذیر تھا،تو قسم کے بعد ایك گھڑی بھی اس حال پر باقی رہا تو قسم ٹوٹ جائے گی،اور اگر فورًا سواری سے اتر گیا یا کپڑا اتاردیا،یا مکان سے منتقل ہونا شروع ہوگیا تو حانث نہ ہوگا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قال فی الفتح ثم انما یحنث بتاخیر ساعۃ اذا امکنہ النقل فیھا والا بان کان لعذر خوف اللص او منع ذی سلطان او عدم موضع ینتقل الیہ او اغلق علیہ الباب فلم یستطع فتحہ لایحنث ویلحق ذٰلك الوقت بالعدم للعذر اھ ولو قدر علی الخروج بھدم بعض الحائط ولم یھدم لم یحنث لان المعتبر القدرۃ علی الخروج |
فتح میں فرمایا کہ پھر اگر کچھ دیر کردی جبکہ اس کو فورًا منتقل ہونا ممکن تھا تو حانث ہوجائے گا،ورنہ اگر فورًا ممکن نہ تھا کہ وہاں چوری کا ڈر تھا،یا اختیار والے حاکم کی طرف سے رکاوٹ تھی،یا منتقل ہونے کو دوسرا مکان نہ تھا،یا دوسرے مکان کو تالا پڑاہوا تھا جس کو کھولنے پر قادر نہ ہواتو حانث نہ ہوگا، کیونکہ فورًا منتقل ہونے میں یہ وقت بھی شمار ہوگا،اور عذر کی وجہ سے اس وقفہ کو کالعدم قرار دیاجائے گا اھ،اور اگر وہاں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع