30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان حنث وھی ای الکفارۃ ترفع الاثم وان لم توجد منہ التوبۃ معھا ای مع الکفارۃ،سراجیہ [1]اھ ملخصًا، وفیہ ایضا من حلف علی معصیۃ کعدم الکلام مع ابویہ اوقتل فلان وجب الحنث والتکفیر لانہ اھون الامرین[2]۔ |
ہونے پر کفارہ ہوتا ہے اور وہ کفارہ قسم کے گناہ کو ختم کردیتا ہے اگرچہ اس کے ساتھ توبہ بھی نہ کرے،سراجیہ اھ ملخصًا۔ اس میں یہ بھی ہے اگر کسی نے گناہ پر قسم کھائی مثلًا کہا میں والدین سے بات نہ کروں گا یافلاں کو قتل کروں گا،تو اس پر لازم ہے کہ وہ حنث کرے(یعنی قسم توڑ دے)اور کفارہ دے دے کیونکہ یہ کفارہ اس گناہ کے مقابلہ میں کم تر ہے۔(ت) |
اور کفارہ ایك غلام آزاد کرنا یادس مسکینوں کو متوسط کھانا یا کپڑا دینا جو تین مہینہ سے زیادہ چلے اور سب بدن ڈھك لے،اور جو کچھ نہ ہوسکے تو متواتر تین روزے رکھناہے،
|
فی الدرالمختار وکفارتہ تحریررقبۃ اواطعام عشرۃ مساکین کمافی الظہار او کسوتھم بما یصلح للاوساط وینفع بہ فوق ثلثۃ اشھر ویستر عامۃ البدن فان عجز عنھا کلھا وقت الاداء صام ثلثۃ ایام ولاء [3]اھ ملخصًا۔ |
درمختار میں ہے کہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ گردن آزاد کرے،یا دس مسکینوں کو کھانا دے جیسا کہ ظہار میں ہوتا ہے،یادس مسکینوں کو درمیانہ لباس دے جو عام بدن کو ڈھانپ لے اور کم از کم تین ماہ تك وہ لباس کام دے۔اور اگر ان امور کی ادائیگی سے عاجز ہوتو مسلسل تین دن روزے رکھے اھ ملخصًا (ت) |
اور اپنی بریت کو مغالطہ مسلمین کے لئے قصدًا جھوٹی قسم کھانا کہ زبان سے قسم کھانا اور دل میں اس کے خلاف پر عزم رکھتا ہو ہر گز جائز نہیں،اور احترام نام پاك الٰہی سے بالکل خلاف ہے،حق سبحانہ وتعالٰی نے قرآن عظیم میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی جو قسموں کو اپنی سپر بناتے ہیں،کفارہ اس لئے مقرر ہوا ہے کہ اگر احیانًا حنث واقع ہو یہ اس کا مصلح ہوسکے نہ کہ یہ کفارہ پر تکیہ کرکے قصدًا جھوٹی قسم کھائے اسے اپنی بریت کی ڈھال بنائے،واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ٢٠٢: ٢٧رمضان ١٣٢٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے قسم کھائی کہ میں آج ظہر جماعت کے ساتھ ادا کروں گا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع