30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لہ فصلی وقرأفیھا اوسبح او ھلل لم یحنث وقال الفقیہ ابواللیث ان عقد یمینہ بالفارسیۃ لایحنث بالقراءۃ والتسبیح خارج الصلوٰۃ ایضا للعرف فانہ یسمی قارئا ومسبحا لامتکلما وعلیہ الفتوی کذافی الکافی اھ[1] ملخصًا۔ |
خاص نیت نہ کی،تو نمازپڑھنے میں قرأت کرنے،تسبیح و تہلیل کرنے پر قسم نہ ٹوٹے گی۔اور ابوللیث فقیہ نے فرمایا اگر کسی نے فارسی زبان میں قسم کھائی کہ بات نہ کروں گا،تو خارج از نماز قرأت کرنے اور تسبیح پڑھنے پر بھی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ اس عمل والے کو عرف میں قاری اور تسبیح پڑھنے والاکہا جاتا ہے کلام کرنے والانہیں کہا جاتا،اور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ کافی میں ہے اھ ملخصًا(ت) |
اسی میں ہے:
|
اذاحلف لایکلم فلانا فاقتدی الحالف بالمحلوف علیہ فسھا المحلوف علیہ فسبح لہ الحالف لم یحنث کذافی المحیط[2]۔ |
اگر قسم کھائی کہ وہ فلاں سے بات نہ کرے گا،تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے وہ بھول جائے تو قسم کھانے والے نے اسے سبحان اﷲ کہہ کر لقمہ دیا تو حانث نہ ہوگا،یعنی قسم نہ ٹوٹے گی جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
کذا اذا سلم عن الصلوٰۃ وفلان عن جنبہ کذافی العتابیۃ [3]۔ |
یونہی جب نماز سے سلام پھیرے اور وہ فلاں اس کے پہلو میں ہو،جیسے کہ عتابیہ میں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
لوکان المحلوف علیہ اماماوالحالف مقتدیابہ ففتح علی الامام لایحنث [4]الخ۔ |
جس کے متعلق قسم کھائی اگر وہ امام ہو اور قسم کھانے والا مقتدی ہوتو امام کو لقمہ دینے پر وہ حانث نہ ہوگا،الخ(ت) |
اسی طرح صدہا مسائل میں جن کا ماخذ وہی عرف پر احکامِ ایمان کی بنا ہے،واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٠٠: ازاوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ١٧شوال ١٣١١ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو سے قسمیہ کہا کہ یہ کام کر،اور اس نے
[1] الفتاوی الہندیۃ الباب السادس فی الیمین علی الکلام نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٩٧
[2] الفتاوی الہندیۃ الباب السادس فی الیمین علی الکلام نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٩٧
[3] الفتاوی الہندیۃ الباب السادس فی الیمین علی الکلام نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٩٧
[4] الفتاوی الہندیۃ الباب السادس فی الیمین علی الکلام نورانی کتب خانہ پشاور ٢/٩٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع