30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاٰخر ان ضربتك فعبدی حرفمات فضربہ قال فھو علی الحیٰوۃ،وکذٰلك الکسوۃ والکلام والدخول [1]انتہی۔ |
کو کہا اگرمیں تجھے ماروں تو میرا غلام آزاد ہے،دوسرے کے فوت ہونے کے بعد اس نے اسے مارا(تو قسم نہ ٹوٹے گی)یوں ہی لباس،کلام یا دخولِ دار کی قسم کھائی ہوتو وہ بھی فوت ہونے کے بعد کارروائی پر نہ ٹوٹے گی کہ ان قسموں کا تعلق زندہ سے ہوتا ہے اھ(ت) |
وجہ اس کی یہ ہے کہ بنائے یمین عرف پر ہے اور عرف میں اس سے کلام بعد الموت مقصود ومفہوم نہیں ہوتا،نہ بعد موت کلام و سلام کویہ کہتے ہیں کہ زائرمیت سے باتیں کررہا ہے اگرچہ و حقیقۃً وشرعًا کلام و سلام ہے جیسے قسم کھانے والاکہ گوشت نہ کھائے گا مچھلی کھانے سے حانث نہ ہوگا اگرچہ حقیقۃً وشرعًا گوشت اس پر بھی صادق،
|
قال اﷲ تعالٰی لِتَاۡکُلُوۡا مِنْہُ لَحْمًا طَرِیًّا[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:تم دریا سے تازہ گوشت کھاؤ۔(ت) |
ولہذا اگرقسم کھائی کہ کلام نہ کرے گا اور قرآن پڑھا،تسبیح و تہلیل کی،حانث نہ ہوگا،حالانکہ حقیقۃً و شرعًا یہ بھی کلام ہے
|
قال اﷲتعالٰی اِلَیۡہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ [3]وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان حبیبتان الی الرحمٰن سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیم[4]۔رواہ البخاری۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اسی کی طرف طیب کلمات اٹھتے ہیں۔ اورحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:دو کلمے زبان پر خفیف، ترازوں میں بھاری،اﷲ تعالٰی کے ہاں محبوب ہیں سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیم،اس کو بخاری نے روایت کیا (ت) |
یہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں اگر قسم کھائی زید سے کلام نہ کروں گا اور زید نماز جماعت میں اس کے برابر کھڑا تھا سلام پھیرتے وقت اس کی طرف منہ کرکے السلام علیکم ورحمۃ اﷲ کہا حانث نہ ہوااگرچہ اس سلام میں نیت حاضرین کا قطعًا حکم ہے اسی طرح اگر جس کی نسبت قسم کھائی تھی وہ امام ہوا اور نماز میں بھولا اس نے بتایا قرأت میں لقمہ دیا حانث نہ ہوگا حالانکہ یہ قطعًا اس سے خطاب ہے اور خاص بقصد خطاب صادر،
|
فی الھندیۃ لوحلف لایتکلم ولانیۃ |
ہندیہ میں ہے کسی نے قسم کھائی کہ کلام نہ کروں گا،اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع