30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی ردالمحتار عن غرر الاذکار ثم اعلم ان مشائخنا استحسنوا ان ینصب القاضی الحنفی نائبا ممن مذھبہ التفریق بینھما اذاکان الزوج حاضرا وابی عن الطلاق لان دفع الحاجۃ الدائمۃ لایتیسر بالاستدانہ اذ الظاھر انھا لاتجد من یقرضھا وغنی الزوج ماٰلا امرمتوھم فالتفریق ضروری اذا طلبتہ وان کان غائبا لایفرق لان عجزہ غیر معلوم حال غیبتہ وان قضی عجزہ غیر معلوم حال غیبتہ وان قضی بالتفریق لاینفذ قضاؤہ لانہ لیس فی مجتھد فیہ لان العجز لم یثبت [1]اھ فانظر الی قولہ وغنی الزوج ماٰلا امرمتوھم وقولہ فی الغائب لان عجزہ غیر معلوم یرشد انك ان الکلام انما ھو فی العاجز المعسر دون القادر المستکبر وانظر اٰخر الکلام یفیدك ان القضاء بالتفریق حیث لم یثبت عجزہ باطل سحیق وقد قال فی ردالمحتارایضا قبلہ
|
بیویوں کو اچھی طرح رکھو یا ان سے بھلائی کے ساتھ جدائی کرلو۔ردالمحتار میں غررالاذکار سے منقول ہے کہ ہمارے مشائخ نے یہ پسند کیا ہے کہ حنفی قاضی کسی شافعی یا اس شخص کو جس کا مذہب یہ ہو کہ نفقہ نہ دینے پر حاضر خاوند کو طلاق دینے پر مجبور کیا جائے اگرطلاق نہ دے تو قاضی تفریق کرے،اپنا نائب بناکر اس سے تفریق کرادے کیونکہ نفقہ کی حاجت دائمی ہے جو کہ بیوی کے قرض اٹھانے پر پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ ظاہر میں کوئی ایساشخص نہیں ملتا جو اس کو قرض دیتا رہے جبکہ خاوند کا بالآخرغنی ہو کر نفقہ ادا کرنا موہوم بات ہے تو بیوی کے مطالبہ پر اس صورت میں تفریق ضروری ہے،اور مذکورہ صورت میں اگر خاوند غائب ہوتو تفریق نہ کی جائے کیونکہ غائب ہونے کی صورت میں خاوند کا نفقہ سے عجز معلوم نہ ہوسکے گا اس صورت میں اگر تفریق کردی تو وہ نافذ نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں تفریق مجتہدین کے ہاں زیر بحث مسئلہ نہیں ہے کیونکہ خاوند کا عجز معلوم نہیں ہے،اھ۔ اس عبارت میں"بالآخر خاوند کا غنی ہونا موہوم ہے"اور غائب ہونے والے کے بارے میں"یہ کہ اس کا عجز معلوم نہیں"پر غور کریں تو یہ رہنمائی ملتی ہے کہ تفریق کی بات صرف خاوند کے تنگدست اور عاجز ہونے کی صورت میں ہے،نہ کہ قادر اورہٹ دھرم خاوند کی صورت میں،اور پھر مذکورہ کلام کاآخری حصہ تو واضح طور پر بتارہا ہے کہ جب خاوند کا عجز ثابت نہ ہوتو وہاں تفریق کافیصلہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع