30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اگر زنا متحقق بھی ہوجائے جب بھی طلاق دینا واجب نہیں جب تك طلاق نہ دے،اور ہندہ اس کے یہاں سے خود نہ نکلے تو روٹی کپڑا شوہرکے ذمہ ہے اس پر واجب ہے کہ روٹی کپڑا دے یا طلاق دے گا تو ختمِ عدت تك کاروٹی کپڑا اور مہر اسے ادا کرنا ہوگا،بعد عدت ہندہ مہر وغیرہ اپنے مال سے کھائے گی اگر مال رکھتی ہو یا دوسرے شوہر کے پاس سے،اگر دوسرا نکاح کرے،اور مال نہ رکھتی ہو نہ کما سکتی ہو نہ دوسرا نکاح ہوتو اس کا روٹی کپڑا اس کے جوان بیٹے پر واجب ہے بھائی یا چچا یا ماموں وغیرہ پر کچھ نہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٩٧: از کلکتہ دھرم تلالین مکان حاجی سلیمان یوسف مہ پارہ نمبر٤٥ مرسلہ مولوی سید ابراہیم صاحب مدنی ١٨شوال ١٣١٩ھ
|
ماقولکم دام فضلکم معشر علماء الاسلام رحمکم اﷲ تعالٰی فی الدارین فی رجل یشرب الخمر دائما ویھتك ویمزق الاوراق الکریمۃ التی فیھا نقش المسجد الحرام والروضۃ المطھرۃ النبویۃ علیہ الف الف صلوٰۃ وتحیۃ ویعلق بدلھا علی الجدران تصاویر اٰلھۃ الکفار الفجار،وقدرمی اوراق المتبرکۃ فی القاذورات ویضرب الزوجۃ علی اداء الصلٰوۃ ویمنعھا وویضربھا اذا لاتشرب الخمر واذا قیل لہ تعال نذھب الی المسجد فیقول انااذھب الی المسکرات لاشربھا ومالی حاجۃ الیہ ولاینفق علیہا النفقۃ واذااجبر علی الطلاق لایطلقھا ویأبی الطلاق حتی عجزت ورفعت شکواھا الی الحاکم فاقر عندہ فی الشھر بعشرۃ مضروبۃ مسکوکۃ والان |
علماء اسلام کی جماعت،اﷲ تعالٰی تم پردونو ں جہان میں رحمت فرمائے اور تمہاری فضیلت کو دائم رکھے،آپ کا کیا ارشاد ہے ایسے شخص کے بارے میں جو ہمیشہ شراب پیتا ہے اور مسجد حرام اور روضہ مطہر نبی پاك ان پر ہزار ہزار صلوٰۃ وسلام ہو،کے نقش والے مبارك اوراق کی ہتك کرتے ہوئے ان کو پھاڑتا ہے،اور دیوار پر ان کی جگہ کافروں کے بتوں کی تصاویر کو آویزاں کرتا ہے اور اس نے مبارك اور اق کو گندگی میں پھینکا ہے اور بیوی کو نماز سے روکتا اور مارتا ہے اور اسے شراب نہ پینے پر مارتا ہے،اور جب اسے مسجد میں جانے کے لئے کہا جاتا ہے تو کہتا ہے میں تو شراب خانوں میں جاکر شراب نوشی کرونگا اور مجھے مسجد میں جانے کی ضرورت نہیں ہے،اور بیوی کو نفقہ نہیں دیتا اور جب اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے تو وہ انکار کرتے ہوئے بیوی کو طلاق نہیں دیتا حتی کہ بیوی نفقہ سے عاجز ہوکر حاکم سے شکایت کرتی ہے تو وہ حاکم کے پاس بیوی کو ماہانہ دس روپے دینے کا اقرار کرتا ہے جبکہ اب تك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع