دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

طلاق دے دو،میں نے مریضہ کی ماں سے درخواست کی مہر سے لادعوی ہوکر مجھ سے تین روپیہ ماہوار کا اقرار نامہ عمر بھر کے واسطے لکھا لو یہ اس کے خوردو نوش کو کافی ہے مجھے اتنی ہی توفیق ہے اور کل زرِ مہر ادا کرنے کی استطاعت اس وقت مجھے نہیں ہے،وہ اس درخواست کو منظور نہیں کرتیں،اس صورت میں ازروئے شرع مجھے کیا عمل کرنا چاہئے؟

دوم یہ کہ مندرجہ صورت میں دوسرا عقد ہونے پر اگر عورت خاوند کی خدمت و اطاعت کم کرے یا بالکل نہ کرے اور دوسری عورت اس سے زیادہ خدمت و اطاعت کرے تو حقوق زو جگان میں مساوات رکھنی شوہر کے ذمہ لازم ہوگی یا کوئی تفریق رہ سکتی ہے اور کیا؟

الجواب:

جب تك وہ آپ کی اجازت کے بغیر اپنی ماں کے یہاں یا کسی دوسری جگہ رہے نفقہ کی مستحق نہیں،اور جب تك طلاق یا موت نہ ہو غیر میعادی مہر واجب الادا نہیں ہوتا۔دوسری شادی اگر کی جائے اور زوجہ اولیٰ بھی شوہر کے پاس رہے تو دینے لینے اور شب کو پاس رہنے میں مساوات ہوگی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ١٩٦:                                   از شہر بریلی محلہ کانکرٹولہ مسئولہ تلن                          ٢٥ذی الحجہ ١٣٣٨ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا حالتِ نابالغی میں نکاح کردیا تھا وہ اپنے شوہر کے گھر بالغ ہوئی اور اس کے اولادیں پیدا ہوئیں حتی کہ اب اس کے اولا د جوان موجود ہے مگر اسی عرصہ میں وہ آوارہ اور زانیہ ہو گئی اس سبب سے اس کے شوہر نے نکال کر اس کے حقیقی بھائی کے گھر پہنچادیا،بھائی نے پھر اس کو شوہر کے یہاں پہنچادیا،ایسا قصہ تین چار مرتبہ ہوا،اور ایك مرتبہ ایسا ہوا کہ ہندہ کو اس کے شوہر کے چچا نے اپنی لڑکیوں کی شادی میں ببلوایا،اور چودھری نے اسکے شوہر کے یہاں حلقہ شادی میں پہنچادیا،مگر صبح کو پھر اس کے شوہر نے اس کو اس کے بھائی کے یہاں پہنچا دیا،اور ایك مرتبہ ہندہ مذکور کو بھائی نے نہیں رکھا تو وہ اپنے ماموں کے گھر آئی تو ماموں نے چند روز رکھ کے کہا کہ میں کنبہ والا ہوں مجھ میں اب طاقت رکھنے کی نہیں ہے اپنے چچا تایاؤں اور دوسرے عزیزوں کے یہاں رہو،برادر لوگ،بھائی اور ہندہ کے ماموں کا حقہ پانی بند کرتے ہیں،ازروئے شرع کے ان کا حقہ پانی بند ہونا چاہئے یانہیں؟ اور ہندہ کا رکھنا کس پر واجب ہوگا؟ چچا یا شوہر یا ماموں اور بھائی وغیرہ کس پر اس کا روٹی کپڑا مقرر ہوگا یا کوئی بھی رکھنے کا ذمہ دار نہ ہوگا؟ ہندہ کو نکال دیا جائے یا کیاکیا جائے ؟مکرر یہ کہ شوہر نے ہندہ کو ابھی طلاق نہیں دی ہے اور برابر اس کو روٹی کپڑا دیتا ہے،سال بھر سے ماقبل کے اپنے بھائی اور ماموں کے سر ہے شوہر کے بوجہ نہ دینے طلاق کے نان و نفقہ ہندہ کو دینا چاہئے یا نہیں؟اور شوہر کو تحقیق ہوجانے زنا پر فورًا طلاق دینا چاہئے یا روٹی بندکرنا چاہئے ؟


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن