30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آئندہ کے فساد کی مدافعت کے خیال سے جیسا کہ فقرہ نمبر ٥ میں مذکور ہے ہندہ کے معاملات میں دخل نہیں دیا۔
(٥)چونکہ ہندہ نے زید کو قسم دی کہ اسے طلاق دے دے پس ایسی حالت میں خلع کی صورت ہوسکتی ہے کیا۔
الجواب
ہندہ سخت گنہگار ہے مگر صرف اتنی بات کہ اس نے اپنے منہ سے طلاق مانگی خلع نہیں ہوسکتی،نوکر وغیر ہ کا مزید بار جو زید پر اپنے آرام کے لئے پڑاہندہ سے اس کا مطالبہ نہیں کرسکتا اگرچہ ہندہ کا اس کے پاس نہ رہنا ہی اس کے باعث ہواہو،ہاں جتنے دنوں بے اجازتِ زید زید کے یہاں سے جاکر دوسری جگہ رہی اتنے دنوں نفقہ نہ پائیگی جو مالِ زید اس نے اس متبنی یا اپنے اعزا کی شادیوں یا متبنی کے خوردونوش میں بے اجازت زید صرف کیا اس کا تاوان ہندہ پر لازم ہے اور ناگواری کے ساتھ زید کا خاموش رہنا اجازت نہ سمجھا جائے گا"لاینسب الی ساکت قول"(خاموش کی طرف قول منسوب نہ کیا جائے۔ت)اس سب کا مجموعہ جتنی قیمت کا ہو زید اس کے مہر میں سے کم کرسکتا ہے لصحۃ جریان المقاصۃ بینھما(کیونکہ خاوند بیوی میں لین دین کا حساب صحیح ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٩٤تا١٩٥: ازسکندرہ راؤ ضلع علی گڑھ مرسلہ امداد علی خاں ١٥رجب المرجب ١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میری زوجہ فاترا لعقل ہونے کے باعث اپنی ضروریات زندگی و نفسانی خواہش کو محسوس نہیں کرسکتی یا ظاہر نہیں کرتی۔نہ مری آبرواور جان و مال کی حفاظت کرتی ہے بلکہ اشیاء کو خراب و برباد کرتی ہے اور تربیت اولاد و پاکیزگی جسم وصوم و صلوٰۃ اموراتِ شرعیہ و معاملات خانہ داری سے بالکل غافل ہے ہدایت پر عمل نہیں کرتی،جب بیماری شروع تھی تو اس سے تین لڑکے پیداہوئے،بے حفاظتی کے باعث بقضائے الٰہی فوت ہوئے،وقت شادی سے جس کو عرصہ تقریبا دس سال کا گزرا ان نقصانات کو برداشت کرتے ہوئے حتی الامکان میں نے اور میری ضعیفہ ماں نے مریضہ کی دلجوئی،خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ کی مرض کایقین ہونے پر حکیموں ڈاکٹروں دائیوں اور عاملوں سے علاج کرانے پر بھی کامیابی نہ ہوئی،مرض مستقل ہوگیا صحت سے مایوسی ہوگئی تقریبًا پانچ سال سے خاموشی طاری ہے اور وہ میری خدمت سے قاصر ہے،اب میری ماں کی رائے اور میری خواہش ہے کہ دوسری عورت سے عقد کیا جائے مگر مریضہ کی ماں نے اس امر سے مطلع ہوکر مجھ سے اور میری ماں سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اسی بنا پر تجاہل عارفانہ سے کام لے کر تمام برادری میں مشہور کرتی ہیں کہ میری بیٹی پاگل نہیں ہے بلکہ اس کے سسرالیوں کے ظلم سے اس کی بدمزاجی بڑھ گئی ہے،اور اپنے اس قول کی تائید کے لئے اپنی بیٹی کو بلارضامندی اپنے پاس تقریبًا چھ ماہ سے رکھ چھوڑا ہپے اور چاہتی ہیں کہ میرے پاس ہی اس کےلئے پانچ روپیہ ماہوار اور خوردنو ش کو مقر ر کردو یا ساڑھے پانچ سورو پیہ ماہوار زر مہر معینہ ادا کرکے اس کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع