30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ١٨٧:ازکانپور طلاق محل مکان حکیم نورالدین مسئولہ عبیداﷲ ٤شوال ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید آوارہ اور بدچلن ہونے کے علاوہ نان و نفقہ کاکفیل بھی نہیں ہوسکتا اور اس کا باپ یعنی خالد اگرچہ نان ونفقہ کا کفیل ہوسکتا ہے اگر وہ چاہے،مگر وہ اور اس کی اہلیہ وغیرہ بھی ہندہ کو سخت تکالیف کھانے پینے پہننے کی دیتے ہیں اور سخت خدمت مثل ایك لونڈی کے لیتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں ہندہ کو اپنے نفس کے روکنے کا اختیار ہے کیونکہ ان کی معاشرت نہایت خراب ہے بلکہ جان کا خطرہ ہے،اور کیا قاضی کو حق ہے کہ وہ دونوں میں تفریق یعنی خلع کرادے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
نفقہ نہ دینے پر حاکم اسے مجبور کرے گا کہ نفقہ دے یا طلاق لقولہ تعالٰی فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ [1](کیونکہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے:بھلائی کے ساتھ پاس رکھو یا نیکی کرتے ہوئے چھوڑدو۔ت)لیکن قاضی بطور خود اس وجہ سے تفریق نہیں کرسکتا۔درمختار میں ہے:
|
لایفرق بینھما بعجزہ عنھا بانواعھا الثلثۃ(وھی ماکول و ملبوس و مسکن ح اھ ش)ولا بعدم ایفائہ حقھا ولو موسرا[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تینوں کے حقوق سے عجز پر خاوند او ربیوی میں تفریق نہ ہوگی،وہ حقوق،خوراک،لباس اور مسکن ہیں،بحر،اھ ش (شرح کی عبارت ختم)اور نہ ہی امیر ہونے کے باوجود بیوی کے یہ حقوق مکمل نہ کرنے پر تفریق ہوگی۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٨٨: از اودے پور میواڑ مدرسہ شرقیہ مرسلہ سید عبدالرحیم صاحب ٢٠شوال ١٣٣٨ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قادر بخش کی عورت مسماۃ محرم ہے ٣٠سال شادی کو ہوئے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے نام بردہ سے عقد ثانی کیا اور محرم کو اس مضمون کی تحریر لکھ دی کہ جو میرا گاؤں جاگیر کا ہے اس میں ۳٠٠ روپے سالانے ادا کرتا رہوں گا بلا عذ ر،اور حال میں نیا مکان جو بنایا ہے وہ تیرےرہنے کو دے دیا،اگر تیرے لڑکا ہوگا تو میری تمام جائداد کا مالك ہوگا اور اگر اس دوسری عورت سے ہوگا تو وہ اس تحریر کی پابندی کرے گا،کچھ عرصہ بعددوسری کے لڑکا پیدا ہوا،مسماۃ محرم قادر بخش کی تابعداری کرتی رہی لیکن دوسری عورت کی اور اس کی باہمی تکرار اس بنا پر ہوتی رہی کہ جو تحریر قادر بخش نے زوجہ اولیٰ کو لکھ دی ہے وہ واپس دے دے کیونکہ میرے لڑکا تولد ہوگیا ہے،محرم نے باوجود تکرار فساد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع