30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بقدر وسعہ والباقی دین الی المیسرۃ[1]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
وسعت کے مطابق ادائیگی کا حکم ہوگا اور باقی ہوتو اس کے ذمہ واجب الادا رہے گا جب وہ آسانی والا ہوگا،واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ١٨٥: از جامع مسجد بریلی مسئولہ نواب چھوٹے میاں صاحب ٧رجب ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی کا عقد بکر کے لڑکے کے ساتھ کیا عقد کے بعد ایك ماہ تك زید کی لڑکی اپنے شوہر کے مکان پر رہی اس وقت سے زمانہ تخمینًا نو ماہ کا ہوا کہ لڑکی زید کے مکان پر موجود ہے،نان نفقہ کی شوہر یا شوہر کے باپ نے خبر نہیں لی،اب اس امر کا تقاضا ہے،کہ زید اپنی لڑکی کی رخصت کردے،زید کو رخصت کرنے سے کچھ انکار نہیں ہے،علمائے دین کی خدمت میں صرف یہ گزارش ہے کہ ان ایام کا نان نفقہ کس پر فرض ہے اور لڑکی رخصت ہونے کے بعد زید کے اور شرعی خاندان کے تعلق والوں کے کس کس کے یہاں جا سکتی ہے،بینواتوجروا۔
الجواب:
اس نو مہینے کا نان نفقہ کسی پر نہیں،جو دن گزرگئے گزرگئے،ہاں اگر نان ونفقہ کچھ مقرر و معین قرار پاچکا کہ اتنا ماہوار دیں گے،اور زید نے لڑکی کو بٹھانہ رکھا،نہ لڑکی نے شوہر کے یہاں جانے سے انکار کیا بلکہ باپ کے یہاں آئی تھی،پھر شوہر کے بلانے کی منتظر رہی اور اس نے اتنے مہینوں نہ بلایا تو اس صورت میں وہ مقررشدہ نفقہ ان مہینوں کا دے گا،اور اگر یہ بلانا چاہتا تھا اور لڑکی نہ گئی تو ان مہینوں کا نفقہ کسی پر نہیں اگرچہ مقرر شدہ ہو،عورت آٹھویں دن اپنے ماں باپ کے یہاں صبح سے شام تك کےلئے بلا اجازت شوہر جاسکتی ہے اور اپنے محارم مثلًا حقیقی یا سوتیلے بہن،بھائی،بھتیجے،بھتیجی، بھانجے،بھانجی، چچا، ماموں،پھوپھی،خالہ،نانا،دادا کے یہاں ہر سال بھر بعد دن بھر کے لئے،رات کو بہر حال شوہر کے یہاں آنا ہوگا،یہ بلااجازت ہے،اور شوہر کی اجازت سے انہیں لوگوں کے یہاں مہینہ بھر اور زائد جتنے دنوں کی وہ اجازت دے رہ سکتی ہے،لیکن غیر محارم مثلًا چچا ماموں خالہ پھوپھی کے بیٹوں بیٹیوں یا جیٹھ دیور بہنوئی وغیرہم یا اجنبی کے یہاں شوہر کی اجازت سے بھی نہیں جاسکتی اگر شوہر اجازت دے گا تو وہ بھی گنہگار ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٨٦: ازشہر بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ احمد یار خاں صاحب ١٨شعبان ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کے چند اولادیں ہوئیں ان میں سے ایک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع