30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
احکام شرعیہ اور خاوند کے جائز حکموں کی تعمیل نہیں کرسکتی نہ وہ اپنی خواہشات کو محسوس کرسکتی ہے نہ پاکی و ناپاکی میں تمیز رکھتی ہے نہ امورات خانہ داری و علائق زندگی کو سمجھ سکتی ہے غرض کہ مجھے اس سے تمام مصلحتیں فوت نظر آتی ہیں اس کے علاج سے ہر طرح مایوس ہوکر اعزاواقربا کے اصرار واپنی آسائش و قیام نسلی کی امید پر میں نے بحالت مجبوری بعد بسیار کے دوسری شادی کرلی ہے اس سے بفضلہ ایك بچہ بھی پیدا ہوا ہے،اب میرے متعلقین میں میری ایك والدہ ضعیفہ اور زوجگان وایك بچہ و ایك میں خود یہ پانچ کس ہیں اور کچھ بارِ قرضہ بھی ہے جو بوجہ ضروریات شرعی ہوا ہے اب زوجہ سابقہ یعنی فاترا لعقلی کی والدہ کو(میرے خیال میں تجاہل عارفانہ سے)شبہہ ہے کہ میری لڑکی کو ان لوگوں سے تکالیف پہنچتی ہیں،اور نہ وہ ان لوگوں میں آسائش رہ سکتی ہے،اس لئے ان کی خواہش ہے کہ اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھ کر میری نصف آمدنی کو بٹالیں اور اسی امید پر وہ عنقریب کچہری مجاز میں نالش کرنے والی ہیں میں ان سے کہہ رہاہوں کہ میری جانب سے کوئی تکلیف کبھی نہیں ہوئی نہ آئندہ ہوگی بلکہ آپ خودرہ کر میرے کاموں میں مدد کیجئے اور اپنی بیٹی کو حسبِ منشاآرام پہنچائیے اور بوجہ ناپاك رہنے اور ہوش وحواس درست نہ ہونے کے اپنی بیٹی کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے برتنوں سے احتیاط رکھئے یا زردین مہر سے دست بردار ہوکر مجھ سے اپنی بیٹی زوجہ میرے کے واسطے چار روپیہ ماہوار علاوہ پارچہ پوشیدنی کے تاحینِ حیات لیتی رہئے،کیونکہ اس وقت پانچ آدمیوں کی پرورش،قرضہ کی ادائیگی،تربیت اولاد،اتفاقی ضروریات کا پورا کرنا میرے ذمہ ہے،اور اس کو اپنے مکان پر رکھئے وہ ان باتوں میں سے کسی کو منظور نہیں کرتیں،پس ایسی صورت میں میرے لئے شرع شریف کا کیا حکم ہے جس سے کہ میں خدا ورسول کے نزدیك مواخذہ دار نہ ہوں اس میں دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسی عورت کا دین مہر و نان نفقہ کسی خدمت کے عوض مجھ پر واجب ہے۔
الجواب:
مہر کسی خدمت کا معاوضہ نہیں وہ نکاح میں بضع کا عوض ہے اور بہر حال واجب ہے اور جب فاتر العقل ہے تو اس کے مہر سے دستبرداری نہ وہ کرسکتی ہے نہ اس کی ماں نہ کوئی اور،یوں ہی جب تك وہ شوہر کے گھر ہے یا اس کے گھر آنے سے انکار نہ کرے،اس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے جو زن و شو دونوں کو حال کی رعایت سے بقدر متوسط دلایا جائے گا مادرِ زن کا نصف آمدنی مانگنا ظلم صریح ہے جب کہ یہ مقدار نفقہ زن سے زائد ہو،درمختار میں ہے:
|
النفقۃ تجب للزوجۃ علی زوجھا بقدر حالھما بہ یفتی ویخاطب |
خاوندپر بیوی کا نفقہ ان دونوں کے حال کے مطابق ہے،اسی پر فتوی دیا جائے گا،اور خاوند کو اس کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع