30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ١٨١: ازجاورہ محلہ مرسلہ سید ذوالفقار احمد صاحب ١٢ شوال ١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ جو جوان العمر نیك چلن ہے عرصہ آٹھ نوسال سے ہندہ کے شوہر زید نے ہندہ کو چھوڑ دیا ہے اس کا نان ونفقہ نہیں دیتا ہے،نہ کسی طرح کی خبر گیری اس کی کرتا ہے،بلکہ ہندہ کو ایذا وتکلیف پہنچانے کی غرض سے طلاق بھی نہیں دیتا ہے تاکہ ہندہ اس کے ظلم سے نجات پاکر کسی شخص سے نکاح کرکے اپنی گزراوقات کرے،ہندہ پردہ نشین ہے اس کوکوئی کھانا کپڑا دینے والا نہیں ہے،نہ اس کوکوئی قرض دیتا ہے،نہ اس کے پاس اثاثہ ہے جس کو فروخت کرکے بسر اوقات کرے،نہ ہندہ دستکار ہے،کہ جس کی اجرت سے ضروریات خورد ونوش کو پوراکرسکے،اگر ہندہ کا نکاح ثانی نہ ہوگاتو وہ یقینی طور پر ضرور زناکاری میں مبتلا ہوگی کیونکہ اس کا عالم شباب ہے اور بغیر نکاح ثانی کئے دوسرا ذریعہ معاش نہیں ہوسکتا،او رہندہ ایسے مقام پر ہے جہاں قاضی نہیں ہے پس صورت مرقومہ میں ہندہ کے واسطے خاوند ظالم سے کوئی صورت رہائی کی نکلتی ہے یانہیں؟ اگر کوئی صورت ہندہ کی خلاصی کی نہیں نکلتی ہے تو کیا شرع ہندہ کو زنا کراکر گزرِ اوقات کرنے کی اجازت دیتی ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
شرع مطہر اﷲ ورسول کا حکم ہے،اﷲ ورسول سے زنا کی اجازت مانگنی کفر ہے،جب تك شوہر زندہ ہے اور طلاق نہیں دی دوسرا نکاح حرام حرام حرام،زنا زنا زنا ہے۔وساوس اور اندیشے کاہے کے ہیں زناکے،موہوم زناسے بچنے کےلئے موجود زنا کراؤ یہ کون سا دین ہے،چارہ کارنالش ہے کہ روٹی کپڑا دے یا طلاق،اور یہ بھی نہ ہوسکے تو سوائے صبر کے کچھ علاج نہیں،اور جو ا ﷲ کے لئے صبر کرتا ہے اﷲ اس کی مشکل کھول دیتا ہے،رزق اﷲ پر ہے شوہر رزاق نہیں،محنت مزدوری کرے اور غلبہ خواہش کےلئے روزے رکھے۔نبی صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء[1]۔ |
اور جو شادی کے خرچے کی استطاعت نہیں رکھتا اس پر لازم ہے کہ وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لئے شہوت کاتوڑ ہے۔(ت) |
اﷲ عزّوجل فرماتا ہے:
|
وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾ |
جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ اس کے لئے راہ نکال دے گا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع