30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لہ شیئ وانما الموسر والمعسر ھھنا بمعنی الموسع و المقتر وذٰلك لایتقید بالنصاب ولایلزمہ،بل یختلف بما قدمنا فجعلھم مالك النصاب قادرا لا یستلزم جعلہ موسعا،وان یلزم علیہ لامرأتہ نفقۃ الاغنیاء،وھی ربما تفنی النصاب فی اقل من نصب سنۃ بل فی ربعھا۔ |
واجب ہوتا ہے اگرچہ خاوند کے پاس کچھ بھی نہ ہو،تو بیوی کے نفقہ کے معاملہ میں غنی اور تنگدست بمعنی صاحب و سعت اور تنگی ہے اور یہ معنی نصاب سے مقید نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کو نصاب لازم ہے بلکہ دونوں جدا ہوجاتے ہیں،جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے،تو ان کا خاوند کو صاحب نصاب قرار دے کر نفقہ پر قادر ماننا اس چیز کو مستلزم نہیں کہ خاوند وسعت والا قرار پائے اور اس پر غنیوں والانفقہ بیوی کے لئے واجب ہو جبکہ بیوی چھ ماہ میں نصاب کا خاتمہ کردیتی ہے بلکہ سال کے چوتھائی حصّہ میں خاتمہ کردیتی ہے۔(ت) |
لاجرم ردالمحتار میں ہے:
|
صرحواببیان الیسار والاعسار فی نفقۃ الاقارب ولم ارمن عرفھما فی نفقۃ الزوجۃ ولعلھم وکلو ذٰلك الی العرف والنظر الی الحال من التوسع فی الانفاق و عدمہ ویؤیدہ قول البدائع لوکان الرجل مفر طافی الیسار [1]الخ،وسیاتی تمامہ۔ |
فقہاء نے اقرباء کے نفقہ میں خوشحالی اور تنگ حالی کو بیان کیا لیکن میں نے بیوی کے نفقہ میں کسی کو خوشحالی اور تنگ خالی کے کے معیار کو بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا،اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ معیار عرف پر چھوڑدیاہو کہ عرف میں خوشحالی کا نفقہ اور غیر خوش خالی کا کیا ہے،اور اس کی تائید بدائع کا یہ قو ل کہ"اگر کوئی شخص خوش حالی میں انتہائی زیادہ ہو الخ"کررہا ہے،بدائع کا مکمل قول آگے آرہا ہے۔(ت) |
ولہذا نفقہ اقارب میں دوہی قسمیں رہیں کہ قادر اور عاجز میں حصر ہے اور یہاں تین قسمیں ہیں:غنی،فقیر،متوسط۔اور ان کے نفقات کے فرق میں عبارات مختلف آئیں،امام سراج الدین قاری الہدایہ نے فرمایاغنی کے لئے دونوں وقت گیہوں کی روٹی اور گوشت ہے،متوسط کے لئے روٹی اور روغن،فقیر کے لئے روٹی اور پنیرو سرکہ۔اقضیہ میں فرمایا:غنی کی نانخورش گوشت،متوسط کی دودھ،فقیر کی روغن یعنی زیتون،وقال تعالٰی وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیۡنَ ﴿۲۰﴾[2] (اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور کھانے والوں کے لئے سالن ہے۔ت) اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع