30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والذی یظھر للفقیہ البارع فی الفقہ ان الاول اولٰی بالقبول لان مالیس بنام سریع النفاد اذاتواردت علیہ النفقات کما ھوظاھر واﷲ تعالٰی اعلم[1] اھ مافی الخیریۃ،اقول: تعلیل الامام الولو الجی لایفید الاشتراط النصاب دون النمو الاان یضم الیہ ما افادالعلامۃ الرملی وفیہ تامل فتامل ثم اقول: فی سوقہ الی ھنا نظر فان المعتبر فی الاقارب القدرۃ حتی اوجب محمد علی من یکسب کل یوم درھما وتکفیہ اربع دوانق ان ینفق الدانقین علی محارمہ قال فی الفتح وھذا یجب ان یعول علیہ فی الفتوٰی[2] اھ فالموسر ثمہ من یمکنہ دفع حاجۃ غیرہ بدون لحوق ضرر بہ والمعسر بخلافہ ولذا لم تجب علیہ اصلا اما نفقۃ المرأۃ فتجب علی الزوج مطلقا وان لم یکن
|
قرار دیا ہے اھ اورفقہ میں مہارت رکھنے والے پر جو ظاہر ہورہا ہے وہ یہ کہ پہلا قول قبولیت میں اولیٰ ہے کیونکہ جو نصاب نامی نہ ہویکے بعد دیگرے اخراجات میں وہ جلدی ختم ہوجاتا ہے جیسا کہ ظاہر ہے،واﷲ تعالٰی اعلم،خیریہ کی عبارت ختم ہوئی،اقول:(میں کہتا ہوں)امام ولوالجی کی بیان کردہ علت صرف نصاب کی متقاضی ہے نامی ہونے کو متقاضی نہیں ہے ہاں اگر علامہ رملی کی بیان کردہ وجہ کہ نفقہ کے باب میں غناء کا اعتبار ہوتا ہے،کوشامل کیا جائے تو نامی کی وجہ بن سکتی ہے،کو شامل کیا جائے تو نامی کی وجہ بن سکتی ہے جبکہ وہ قابل غور بات ہے تو غور کرو،ثم اقول:(میں پھر کہتا ہوں) خیریہ کا جو یہاں تك بیان ہے اس میں اعتراض ہے کیونکہ اقرباء کے نفقہ میں صرف قدرت والی وسعت معتبر ہے حتی کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے روزانہ ایك درھم کمانے والے پر اقرباء کے نفقہ کے متعلق یہ واجب کیاہے کہ اگر درھم کمانے والے کا گزارچار دانق پر ہوتا ہے تو وہ اپنے ذوالارحام پر دو دانق خرچ کرے۔فتح میں فرمایا کہ یہی وہ قول ہے جس پر فتوی دینے میں اعتباد کیا جاسکتا ہے اھ،تو ذوی الارحام کے نفقہ میں جو دوسرے کی حاجت کو پورا کرسکے اور خود ضرر میں مبتلا نہ ہو وہ فراخ دست کہلائے گا،اور تنگدست وہ ہوگا جو ایسا نہ کرسکے اور اس وجہ سے اس پر بالکل واجب نہ ہوگا لیکن بیوی کا نفقہ تو خاوند پر ہر حال میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع