دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

معسرا فعلی ظاہرا الروایۃ الاعتبار لحال الرجل فان کان موسرا وھی معسرۃ فعلیہ نفقۃ الموسرین وفی عکسہ نفقۃ المعسرین واما علی المفتی بہ فتجب نفقۃ المعسرین واما علی المفتی بہ فتجب نفقۃ الوسط فی المسألتین وھو فوق نفقۃ المعسرۃ ودون نفقہ الموسرۃ[1]۔

تنگدست ہو تو ظاہر روایت کے مطابق اس صورت میں خاوند کی حالت کا اعتبار ہوگا اگر خاوند فراخ دست اور بیوی تنگدست ہوتو فراخی والا نفقہ اور اگر خاوند تنگدست ہو اور بیوی امیر ہو توتنگی والا نفقہ واجب ہوگا جبکہ فتوی والا قول یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں صرف خاوند کے حال کی بجائے دونوں کے حال کے اعتبار سے درمیانہ نفقہ واجب ہوگا،اور وہ تنگ حالی سے زائد اور فراخی سے کم ہوگا۔(ت)

اس کے سوا ایسا ر واعسار کی کوئی خاص تحدید یہاں علماء نے نہ فرمائی امر عرف پر دائر رکھاہے بخلاف نفقہ اقارب کے وہاں یسار مقدر بہ نصاب ہے،

ورأیت فتاوی الخیریۃ انہ ساق الی ھنا ماذکروہ ثمہ،اذسئل فی الزوجین اذاکانا غنیین ھل تجب علیہ نفقۃ الاغنیاء وماحدالغنی فی باب النفقۃ(اجاب) نعم تجب نفقۃ الاغنیاء قال فی البحر اختلفوا فی حدالیسارعلی اربعۃ اقوال احدھا انہ مقدر بنصاب الزکوٰۃ قال فی الخلاصہ وبہ یفتی واختارہ الولو الجی معللا بان النفقۃ تجب علی الموسر ونھایۃ الیسار لاحدلھا وبدایتہ النصاب فیقدربہ،والثانی انہ نصاب حرمان الصدقۃ وھو النصاب الذی لیس بنام قال فی الھدایۃ وعلیہ الفتوی وصححہ فی الذخیرۃ اھ

اور میں نے فتاوی خیریہ میں دیکھا تو انہوں نے وہی روش اختیار کی جو فقہا نے اوپر ذکر کی ہے،جب ان سے سوال ہوا کہ جب دونوں غنی ہوں تو کیا غنی والانفقہ واجب ہوگا اور نفقہ میں غنی کی حد کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا ہاں غنی والانفقہ واجب ہوگا،بحر میں فرمایا کہ غنا کی حدمیں فقہاء نے اختلاف کیاجو چار قول ہیں،ایك یہ غنا کی حد نصاب زکوٰۃ کا اندازہ ہے،خلاصہ میں کہا،ا سی پر فتوی ہے،ولوالجی نے اسی کو پسند کیا اور وجہ یہ بیان کی کہ نفقہ سہولت پر مبنی ہے اور سہولت کی کوئی آخری حد نہیں ہے جبکہ اس کی ابتدائی حد نصاب ہے لہذا اسی کو معیاد قرار دیا جائے گا۔اور دوسرا قول یہ کہ غناء کی حد وہ ہے جس پر صدقہ لینا حرام ہوتا ہے یہ وہ نصاب ہے جو نامی نہ ہو یعنی تجارتی یا نقدی والا نصاب نہ ہو،ہدایہ میں فرمایا اسی پر فتوی ہے،اور ذخیرہ میں اسی کو صحیح

 


 

 



[1] ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٤٥

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن