30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بحر میں ہے:
|
فی الظھیریۃ قدر محمد الکسوۃ بدرعین وخمارین وملحفۃ فی کل سنۃ،ارادبھما صیفیا وشتویا ولم یذکر السراویل فی الصیف اذلا بد منہ فی الشتاء، وھذا فی عرفھم امافی عرفنا فتجب السراویل وثیاب اخر کالجبۃ والفراش التی تنام علیہ واللحاف وما تدفع بہ اذی الحر والبرد،وفی الشتاء درع خز وجبۃ قز وخمارابریسم اھ وفی المجتبی ان ذٰلك یختلف باختلاف الاماکن والعادات فیجب علی القاضی اعتبارالکفایۃ بالمعروف وفی کل وقت و مکان[1]۔ |
ظہیریہ میں ہے کہ امام رحمہ اﷲ تعالٰی نے لباس میں سالانہ دوچادروں،ایك لحاظ اور دو اوڑھنیوں کی مقدار ذکر کی ہے، اس سے مراد گرما اور سرما دونوں موسموں کے لئے، انہوں نے موسم گرما میں شلوار کاذکر نہ فرمایا کیونکہ یہ سردی کے موسم میں ضروری ہے،یہ ان کے عرف میں ہے،لیکن ہمارے عرف میں شلوار اور دیگر کپڑے مثلًا،گدّا جس پر سوتے ہیں اور لحاف اور وہ کپڑا جس سے سردی اور گرمی کی شدت سے تحفظ کیا جاتا ہے اور سردیوں میں اونی چادر اور گرم جبہ اور ریشمی دوپٹہ اھ،مجتبٰی میں ہے کہ لباس علاقوں اور عادتوں کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے تو قاضی پر لازم ہے کہ وہ ہر علاقے اور وقت کا اعتبار کرتے ہوئے وہاں کے عرف کے مطابق کفایت والے کا فیصلہ کرے۔(ت) |
اسی طرح فتح القدیر میں اقضیہ اور ہندیہ میں محیط سے ہے۔رہا شوہر کا مدیون ہونا اقول(میں کہتا ہوں۔ت)ظاہرًا اس کے سبب نفقہ زن میں تنگی نہیں کرسکتے کہ یہ بھی مطالبہ عبد ہے بلکہ فتاوی امام اجل قاضی خاں پھر ہندیہ میں ہے:
|
المحبوس بالدین اذاکان یسرف فی اتخاذ الطعام یمنع القاضی عن الاسراف ویقدر لہ الکفاف المعروف وکذٰلك فی الثیاب یقتصد فیھا ویأمرہ بالوسط ولایضیق علیہ فی مأکولہ ومشروبہ وملبوسہ [2]۔ |
قرض میں مقید شخص اگر خوراك کی تیاری میں اسراف سے کام لیتا ہوتو قاضی اس کو اسراف سے منع کرے اور بقدر کفایت عرف کے مطابق خرچ کا پابندکرے اور ایسے ہی لباس کے معاملے میں میانہ روی سے کا م لے اور اس کا پابند کرے تاہم کھانے پینے اور لباس میں اس پر تنگی نہ کرے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع