30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں عمومًا خوش خوراکی وخوش پوشاکی معمول ہے حالانکہ یہی عرب ایك وقت کمال سادگی وتقلل سے موصوف تھا اعتبار عام عوائد کا ہوگا نہ خاص کسی بخیل یامسرف کا بعض بلاد مثلًا شاہجہانپور میں عام طورپر تیل کھاتے ہیں،پلاؤ قورمہ پر اٹھے کے ہوتے ہیں،ہمارے بلاد میں یہ طبعًا مکروہ اور عرفًا معیوب،تووہاں گھی کا مطالبہ نہ ہوگا یہاں ہوگا وقس علیہ،متعارف طور پر ان سب باتوں کے لحاظ کے بعد کہہ سکتے ہیں کہ اتنی آمدنی اتنے مصارف والا ایسے وقت ایسے مقام میں موسر مرفہ الحال یا معسر تنگدست یا متوسط۔تنویر الابصار میں ہے:
|
یقدرھا بقدر الغلاء والرخص[1]۔ |
نفقہ مہنگائی اور ارزانی کی اعتبار سے ہوگا۔(ت) |
نیز اسی میں اور بحوالہ اختیار درمختار میں ہے:
|
یختلف ذٰلك یساراواعسار اوحالا اوبلدا[2]۔ |
نفقہ خوشحالی،تنگدستی،علاقے اور صورت حال کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
لو قال ووقتا لکان اولٰی [3]۔ |
اگر ماتن یہاں وقت کو بھی ذکر کرتے تو بہتر ہوتا(ت) |
اسی میں ہے:
|
یراعی کل وقت اومکان بماینا سبہ[4]۔ |
وقت اور جگہ کا اعتبار کرتے ہوئے نفقہ مناسب مقرر ہوگا۔ (ت) |
اسی میں ذخیرہ سے ہے:
|
ماذکرہ محمد علی عادتھم وذلك یختلف باختلاف الاماکن حرا وبردا و العادات فعلی القاضی اعتبار الکفالۃ بالمعروف فی کل وقت مکان[5]۔ |
امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے لوگوں کی عادت کے اعتبار کو ذکر کیا ہے،تو نفقہ جگہوں کے گرم سرد اور وہاں کی عادات کے اختلاف سے مختلف ہوگا،تو قاضی کو ہر مقام اور وقت کے لحاظ سے عرف میں کفایت کااعتبار کرنا ہوگا۔(ت) |
[1] درمختار شرح تنویر الابصار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٨
[2] درمختار شرح تنویر الابصار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٨
[3] ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٢
[4] ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥١
[5] ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٥٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع