30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرچہ وہ اس کے یہاں نہ رہیں،پھر جو نفقہ نہ باہمی قرارداد سے مقرر ہوا ہو نہ حاکم کے حکم سے اسے اگر ایك مہینہ یا زیادہ کتنے ہی برس گزرجائیں اور اس مدت میں عورت اور اولاد قرض دام سے خواہ کسی طریقہ سے اپنی حاجت نکالتے رہیں یا عورت اپنے مال خواہ قرض یا گداگری سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالے تن ڈھکے تو ا س مدت کے کسی حبہ کا مطالبہ شوہر سے نہیں ہوسکتا،ہاں اگر بحکم حاکم یا تراضی باہمی قرار داد نفقہ ہولیا تھا کہ مثلًا اتنا ماہوار دینا ٹھہرااور مدتیں گزریں شوہر نے نہ اس کا نفقہ دیا نہ اولاد کا،تو عورت اپنے نفقہ مقرر شدہ کا مطالبہ کرسکتی ہے اور اولادکا نفقہ اگرچہ برضائے باہمی یا بحکم حاکم مقرر ہوا ہو جب وقت گزر گیا ساقط ہوگیا کہ وہ بوجہ حاجت تھا اور مدت گزشتہ کی حاجت نکل چکی اگرچہ کسی طرح نکلی یہاں تك کہ اگر حاکم نے صغیر بچہ کے لئے ماہوار اس کے باپ پر مقرر کیا اور ماں کو حکم دیا کہ اس سے نہ ملے توتو قرض لے کر بچہ پر خرچ کر تو اگر اس نے قرض لے کر خرچ کیا جب تو بوجہ حکم حاکم باپ سے واپس پائےگی اور اگر اپنے پاس سے خر چ کیا تو حبہ لینے کی مستحق نہ ہوگی کہ حاکم نے قرض لے کر خرچ کرنے کو کہا تھا ہو اس نے نہ کیا،درمختارمیں ہے:
|
لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزۃ حتی تعود[1]۔ |
خاوند کے گھر سے باہررہنے والی کے لئے نفقہ نہیں ہے وہ واپس آنے تك نافرمان قرار پائے گی۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
النفقۃ لا تصیر دینًا الا بالقضاء او الرضاء ای اصطلاحھما علی قدر معین اضافًا اودراہم فقبل ذٰلك لایلزمہ شئی[2]۔ |
نفقہ اس وقت تك خاوند کے ذمہ قرض نہ ہوگا جب تك قاضی نے یا باہمی رضامندی سے طے نہ کرلیا ہو،یعنی جب تك خاوند بیوی نے باہمی مصالحت سے نفقہ کی مقدارجنس یا نقد متعین نہ کردی ہو،تو اس سے قبل خاوند پر کچھ لازم نہیں ہوگا۔(ت) |
تنویر الابصارمیں ہے:
|
قضی بنفقۃ غیر الزوجۃ ومضت مدّۃ سقطت[3]۔ |
اگر قاضی نے بیوی کے علاوہ غیر کا نفقہ لازم کیا ہو اور بغیر ادائیگی جو مدت گزرگئی اس مدت کانفقہ ساقط قرار پائے گا۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع