30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الثانی وبہ یفتی بحر١[1]وتحقیق المقام فی ردالمحتار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ابویوسف کے نزدیك اگر دائمًا نہ کہے تو بھی دائمی ہوگا،اسی پر فتوی دیاجائے گا،بحر۔اس مقام کی مکمل تحقیق ردالمحتار میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ١٧٧: از ساندھن ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ محبوب احمد صاحب ٢٤ربیع الآخر١٣٣٦ھ
زید نے زبیدہ کے وارثوں کو نوٹس او زبانی ذریعہ سے ولی بننے کو کہا اور زبیدہ کے وارثوں نے انکار کردیا،زید نے نوٹس کے ذریعہ ا طلاع دی کہ اگر اب تم ولی نہ بنوگے اور بعدمیں بننا چاہوگے تو تم سے زبیدہ کے خورد و نوش وغیرہ کا خرچ لے لیا جائے گا،اب اگر چند سال بعدزبیدہ کے وارث ولی بننا چاہیں تو کیا زبیدہ کے خورد نوش وغیرہ کا خرچ لے سکتا ہے ؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ نوٹس کوئی عقد شرع نہیں اس کی بناء پر کوئی مطالبہ نہیں ہوسکتا۔و اﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٧٨: از حافظ اسمٰعیل خاں عقب کو توالی بریلی ٤رجب ١٣٣٦ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو زید نے طلاق مغلظہ دے دی اور اس کی زید سے ایك دختر صغیرہ ہے چند سال بعد ہندہ مدعی ہوئی کہ وہ اتنی مدت سے اپنے میکے میں رہتی ہے میں نے اب تك قرض دام لے کر اپنی اور اپنی دختر کی حاجت پوری کی لہذا روز طلاق سے چار مہینے دس دن بعد تك میرا نفقہ اور آج تك کا دختر کا پچاس پچاس روپے ماہوار کے حساب سے مجھ کودلایا جائے حالانکہ نہ کوئی ماہوار وغیرہ تقرر نفقہ زید نے کیا نہ حاکم نے بلکہ ہندہ اس سے پہلے نفقہ کا دعوٰی فوجداری میں دائر کرچکی تھی جو خارج ہو ااس صورت میں ہندہ کا دعوٰی مسموع ہے یانہیں اور کل گزشتہ مدت کا نفقہ ہندہ یا دختر ہندہ کا زید پر واجب الاداہے یا نہیں اور عورت اور اولاد کے نفقہ میں اس بارے میں کوئی فرق ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں ہندہ کا دعوٰی محض باطل و نامسموع ہے گزشتہ ماہ کا ایك حبہ نہ عورت کے نفقہ کا زید پرلازم ہے نہ دختر کا،زن اور اولاد کے نفقہ میں یہ فرق کہے کہ عورت اگرچہ مالدار ہو اس کا نفقہ شوہر پر لازم ہوتا ہے جبکہ وہ اس کے یہاں رہے اور بلاوجہ شرعی میکے میں رہے تو اصلًا نفقہ کی مستحق نہیں اور اولاد کا نفقہ ان کی محتاجی کی حالت میں لازم ہوتا ہے،اگر مال رکھتے ہیں ان کا نفقہ باپ پر نہیں ورنہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع